افغانستان دہشت گردوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم کریں گے رانا ثناء اللہ

دہشت گردی کو سہولت کاری نہ دی جائے، افغانستان اپنی سرزمین ہمارے ملک کیخلاف استعمال کرنے سے باز رہے ‘اب مزید دہشت گردی برداشت نہیں کی جائیگی
25سال سے افغانوں کے ناز نخرے اٹھائے، سمگلنگ کے مواقع دیئے لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے‘دہشت گردی ختم ہو تو افغانستان سے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں:مشیر سیاسی امور
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم کے مشیر راناثنااللہ نے خبردار کیا ہے   افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم کریں گے ، ہمارا موقف واضح ہے کہ دہشت گردی کو سہولت کاری نہ دی جائے ،افغان سرزمین سے ہمارے ملک میں دہشت گردی نہ ہو اور افغانستان اپنی سرزمین ہمارے ملک کیخلاف استعمال کرنے سے باز رہے۔ایک انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ گزشتہ تین روز میں وفاقی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور اگر 48 گھنٹے کے سیز فائر کے دوران بھی کسی دہشت گرد نے داخل ہونے کی کوشش کی تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا  ریاست پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے اور اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کی جائے گی، افغانستان سے دہشت گردی ہوئی توپاکستان معاف نہیں کرے گااور اگر افغانستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو ہم خود کریں گے۔سیاسی مشیر نے گزشتہ 25 سال کے دوران پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور امداد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے    40 لاکھ افغان مہاجرین کو رکھا، انہیں روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے اور کئی بار مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے بیان کیا  "25 سال سے افغانوں کے ناز نخرے اٹھائے، اسمگلنگ کے مواقع دیے لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ افغانستان سے تعلقات ہو سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو، بصورتِ دیگر سکیورٹی اقدامات اور ردعمل جاری رہیں گے۔