صدر زرداری کے دستخط کے بغیر ایمرجنسی کا نفاذ ممکن نہیں تھا، پی پی نے ہمیشہ آئینی طریقے سے ایمرجنسی لگائی، فضل الرحمان ہم پر تنقید کریں مگر دہشت گردوں کیخلاف کھل کر بات کریں

دہشت گردی کیخلاف جنگ اپوزیشن ساتھ دے تو ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے بلاول بھٹو
فضل الرحمان کوشش کریں تو گورنرراج ختم کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں‘ سہیل آفریدی بزدل ہے جو اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کیلئے تیار نہیں، گورنرراج پر حکومت کا ساتھ دیا، پیپلزپارٹی دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے
محسن نقوی نئے صوبوں،انتظامی یونٹس پر پیپلزپارٹی کی پالیسی جانتے ہیں، گلگت بلتستان میں اتفاق رائے ہے،کیوں صوبے نہیں بنائے جا رہے؟  آئینی اورقانونی طریقے سے نئے صوبے بن سکتے ہیں
ملک کے کسی حصے سے پاکستان کاجھنڈااتارنے  یا  انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے، نقصان تب پہنچتاہے جب دہشتگردی کوسنجیدہ نہیں لیاجاتا:سانحہ کارساز کی برسی پر تقریب سے خطاب
 کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک‘یواین پی) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے   اپوزیشن دہشتگردی کیخلاف وفاقی حکومت کے ساتھ ہے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، اپوزیشن دہشتگردی کیخلاف وفاقی حکومت کے ساتھ ہے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، جب تک ایک ہوکر دہشتگردی کامقابلہ نہیں کریں گے کامیاب نہیں ہوں گے۔وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی بزدل ہے جو اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں، پی پی کا فیصلہ صاف ہے آئینی اور قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہم پر سیاسی تنقید کرسکتے ہیں مگر دہشت گردوں کے خلاف مولانا کو کھل کر بات کرنی چاہیے تھی۔18 اکتوبر سانحہ کارساز کی 19ویں برسی پر تقریب سے خطاب میں انہوں  نے سانحہ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا  18 اکتوبر ملکی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، شہید بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دہشت گردی کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش کی گئی، استقبال کے لیے آنے والے جیالوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قائد کی حفاظت کی، سانحہ کارساز کے شہداء کا لہو گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کے تحفظ اور عوام کے حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا گورنرراج کے فیصلے میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا، پیپلزپارٹی دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ دہشتگردی کامقابلہ کرناپیپلزپارٹی کی اولین ترجیح ہے، پیپلزپارٹی نے اپنی ہی حکومت کیخلاف گورنرراج نافذکیا، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آئینی طریقے سے ایمرجنسی لگائی، خیبرپختونخوامیں گورنرراج اورایمرجنسی آئینی ہے، گورنر کے پی آئینی طور پر وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں، سیاست کمپرومائز کا نام، پیپلزپارٹی وفاقی حکومت میں نہیں ہے۔ فضل الرحمان کوشش کریں تو گورنرراج ختم کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، کے پی میں دہشتگردی کی وجہ سے ایمرجنسی اور گورنر راج لگانا پڑا، فضل الرحمان سیاسی تنقید کریں،انہیں دہشتگردی کی مذمت کرنی چاہیے، مولانافضل الرحمان کی جماعت سے بھی بہت سے لوگ شہید ہوئے۔

 ملک کے کسی حصے سے پاکستان کاجھنڈااتارنیکی اجازت نہیں دیں گے، کسی کوملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے، نقصان تب پہنچتاہے جب دہشتگردی کوسنجیدہ نہیں لیاجاتا، پورے ملک میں دہشتگردوں کامقابلہ کررہے ہیں۔ محسن نقوی نئے صوبوں،انتظامی یونٹس پر پیپلزپارٹی کی پالیسی جانتے ہیں، گلگت بلتستان میں اتفاق رائے ہے،کیوں صوبے نہیں بنائے جا رہے؟ صوبائی منظوری سے نئے صوبے بنائے جاسکتے ہیں، آئینی اورقانونی طریقے سے نئے صوبے بن سکتے ہیں۔ہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے،