سندھ حکومت کے ترجمان سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ لسانی اور سیاسی چورن بیچنے والے ہمیشہ روتے ہی رہیں گے اور ان کی یہ حالت ہمیشہ برقرار رہے گی۔سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ کراچی کے مفادات کا سودا سستے داموں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ پی آئی ڈی سی ایل کے ذریعے فنڈز لینے اور دو وزارتیں حاصل کرنے والے لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مزید فنڈز اور وزارتیں مانگ سکتے تھے۔انہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے ایم کیو ایم کا کردار انتہائی ناقص رہا ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنی کوئی بھی ضرورت وزارتیں یا اختیارات نہیں چاہئیں، بلکہ انہیں ایسا نظام چاہیے جو لنگڑا، ٹی ٹی اور سپاری پر چلتا ہو۔سعدیہ جاوید نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں کو اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کا فرق نظر نہیں آتا اور وہ ہمیشہ بلیک میلنگ کے لئے استعفوں کا کارڈ استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو تباہ کرنے والے، غیر قانونی بھرتیاں کرنے اور بھتہ خوری کرنے والے لوگ آج کراچی کا رونا رو رہے ہیں۔
دوسری جانب، مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ایم کیو ایم کی بلدیاتی نظام سے متعلق ترمیم پارلیمنٹ سے منظور ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 27ویں ترمیم کے دوران کوئی بھی بارگیننگ نہیں ہوئی۔ پریس کانفرنس کے دوران، مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی طرف سے آئینی ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور 26ویں ترمیم کے وقت اس بل کو کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے ان سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو روک دیا جائے، اور یہ بھی کہا کہ اگر ایم کیو ایم چاہتی تو زیادہ وزارتیں اور مراعات بھی مانگ سکتی تھی۔ آخر میں، مصطفیٰ کمال نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو مبارکباد دی۔