بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے عدالت کے فیصلے سے قبل اپنے حامیوں کے نام ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔
اس پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ اس فیصلے کی پرواہ نہیں کرتی۔شیخ حسینہ نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں بنگلادیش کی عبوری حکومت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اس حکومت کو "کرپٹ اور دہشت گرد" قرار دیا اور کہا کہ بنگلادیش کا آئین منتخب نمائندوں کو زبردستی ہٹانے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی لیگ کی بنیاد نچلی سطح سے ہوئی ہے اور یہ کسی غاصب کے اقتدار کی پیداوار نہیں ہے۔ حسینہ واجد نے اپنے حامیوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ عوام خود انصاف کریں گے۔شیخ حسینہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور اب بھی عوام کے لیے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ زندہ ہیں اور ان کا کام جاری رہے گا، چاہے عدالت کا فیصلہ کچھ بھی ہو۔انہوں نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ عدالت کا فیصلہ ان کو روک نہیں سکتا، اور کہا کہ وہ اپنی زندگی عوام کی خدمت میں گزاریں گی۔ انہوں نے اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ ہونے والی ہلاکتوں اور گھر جلا دیے جانے کا ذکر بھی کیا۔خیال رہے کہ آج شیخ حسینہ واجد پر انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کا فیصلہ سنایا جائے گا، جن پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا الزام ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، مظاہروں کے دوران 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔