شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا اعلان، گرفتاری یا موت کا خطرہ بھی قبول کرنے کا عزم

شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا اعلان، گرفتاری یا موت کا خطرہ بھی قبول کرنے کا عزم

ڈھاکا: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں ہر صورت وطن واپس آئیں گی، چاہے انہیں گرفتاری، قید، تشدد یا جان کے خطرے کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

 ان کا کہنا ہے کہ اگر موت بھی ان کی قسمت میں لکھی ہے تو وہ اپنے لوگوں کے درمیان اور اپنے ملک کی سرزمین پر مرنا پسند کریں گی۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ای میل کے ذریعے دیے گئے جوابات میں شیخ حسینہ نے کہا کہ بنگلہ دیش واپسی کا ان کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوا اور وہ اپنے عوام کو مشکلات میں دیکھ کر بیرون ملک باقی زندگی گزارنا نہیں چاہتیں۔ تاہم انہوں نے بھارت سے بنگلہ دیش واپسی کے طریقہ کار یا سفر کی حتمی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، جیل بھیجا جا سکتا ہے، تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا ان کی جان بھی جا سکتی ہے، لیکن ان خطرات کے باوجود وہ اپنے ملک واپس آنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

2024 کے عوامی احتجاج کے بعد بھارت روانگی

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے بڑے عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے دوران ہونے والی بدامنی اور سکیورٹی کارروائیوں میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔شیخ حسینہ 2009 سے 2024 تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی تھی۔

سزائے موت کا فیصلہ اور شیخ حسینہ کا مؤقف

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے 2025 میں مظاہرین کے خلاف کارروائی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ٹریبونل نے 2024 کے احتجاج کے دوران ہونے والی کارروائیوں کی ذمہ داری سابق وزیراعظم پر عائد کی تھی، تاہم شیخ حسینہ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے اور کسی بھی غلط اقدام میں ملوث ہونے کی تردید کی۔سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہیں بنگلہ دیش واپسی پر گرفتاری، قید اور جان کو لاحق خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارت سے حوالگی کا مطالبہ، ڈھاکا کا مؤقف

بنگلہ دیش کی حکومت متعدد مرتبہ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے، تاہم بھارت نے اب تک انہیں بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا۔بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے مطابق حکومت دونوں ممالک کے درمیان موجود حوالگی کے معاہدے کے تحت سابق وزیراعظم کو واپس لانا چاہتی ہے۔دوسری جانب شیخ حسینہ نے اے پی کو بتایا کہ وہ اپنی وطن واپسی کے لیے کسی غیر ملکی طاقت کی حمایت یا خصوصی مداخلت کی خواہاں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اپنے ملک واپس آنا ان کا حق ہے اور وہ اس مقصد کے لیے کسی بیرونی حکومت کی منظوری کی محتاج نہیں۔

عوامی لیگ پر پابندی اور نئی حکومت

شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا اور اسے عام انتخابات میں شرکت کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن کی جماعت کامیاب ہوئی اور انہوں نے اقتدار سنبھالا۔شیخ حسینہ نے موجودہ حکومت پر عوامی لیگ کے سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگست 2024 کے بعد سے جماعت کے کم از کم 20 ہزار کارکن ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا یا روپوش ہونے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم ان ہلاکتوں کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب بنگلہ دیشی حکومت کا مؤقف ہے کہ گرفتاریاں مخصوص جرائم کے الزامات کے تحت کی جا رہی ہیں۔

دسمبر میں واپسی کا اعلان، بنگلہ دیش کی سیاست میں نئی بحث

شیخ حسینہ کے تازہ بیان نے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان کی ممکنہ واپسی نہ صرف ملکی سیاست بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے سفارتی تعلقات کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔تاہم یہ واضح نہیں کہ سابق وزیراعظم کس راستے سے بنگلہ دیش واپس آئیں گی اور آیا بھارت انہیں سفر کی اجازت دے گا یا نہیں۔ اسی طرح ان کی واپسی کی صورت میں گرفتاری اور قانونی کارروائی سے متعلق صورتحال بھی غیر واضح ہے۔