ڈھاکہ (ویب ڈیسک) : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ پابندی انسداد دہشتگردی قانون کے تحت عائد کی گئی ہے اور عوامی لیگ کی تمام سیاسی سرگرمیاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک معطل رہیں گی۔
عوامی لیگ پر پابندی
عبوری حکومت نے عوامی لیگ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ایک قانونی قدم اٹھایا ہے۔جماعت پر پابندی انسداد دہشتگردی قانون کے تحت عائد کی گئی ہے۔
عوامی لیگ کی تمام سیاسی سرگرمیاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک معطل رہیں گی۔
ترمیمی قانون کی منظوری
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے۔ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کے خلاف مقدمے چلانے کی اجازت ہوگی۔
عوامی لیگ کا ردعمل
عوامی لیگ نے عبوری حکومت کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔جماعت کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کے طور پر کی گئی ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
شیخ حسینہ واجد کی فرار کی تفصیلات
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد گزشتہ سال اگست میں شدید عوامی دباؤ کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت سے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاکہ ان پر عائد الزامات کا سامنا کیا جا سکے۔
سیاسی بحران:
بنگلہ دیش میں یہ سیاسی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں عوامی لیگ کے سیاسی رہنما اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ عبوری حکومت کے اقدامات کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔