محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع کردی ہے۔
حکومتِ پنجاب نے دہشت گردی اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی۔محکمہ داخلہ نے ہفتہ 22 نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصر عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔سکیورٹی کے پیش نظر عوامی جلوس اور دھرنے دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن سکتے ہیں۔دفعہ 144 کا مقصد امن و امان قائم رکھنا، انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ ہے۔
پابندیاں اور ہدایات:
لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سرکاری افسران، اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔شادی، جنازہ اور تدفین کی تقریبات پر پابندی لاگو نہیں ہوگی۔اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر پابندی ہے۔ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش بھی مکمل طور پر ممنوع ہے۔چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔