تحقیق کے لئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے بعد معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوایا گیا
پشاور(آئی این پی )گومل یونیورسٹی نے کیمپس میں پیش آنے والے متعدد سنگین واقعات کے بعد کئی طلبہ کو یونیورسٹی سے فارغ کر دیا ، اس با ت کا اعلان یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا میڈیا رپورٹ مطابق بیان میں کہا گیا کہ اکتوبر میں مختلف تاریخوں پر طلبہ نے بیرونی افراد کے ساتھ مل کر رجسٹرار آفس پر دھاوا بولا، ایک خاتون طالبہ پر حملہ کیا، وائس چانسلر کے دفتر میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی، پولیس گارڈ پر حملہ کیا، اور ایک تقریب کے دوران قومی ترانے کی بے ادبی کی۔ایک اور رپورٹ شدہ واقعے میں کرکٹ میچ کی اسکریننگ کے دوران پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔واقعے کی تحقیق کے لئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے بعد معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوایا گیا، الزام کا سامنا کرنے والے طلبہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور انہیں اپنا مقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، مگر ان کے جوابات غیر تسلی بخش پائے گئے۔یونیورسٹی کے ڈسپلن کے قوانین کے تحت متعلقہ طلبہ کو یونیورسٹی سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کے داخلے منسوخ کر دئیے گئے، ہاسٹل کے کمرے خالی کرا کر سیل کر دئیے گئے، فارغ کیے گئے طلبہ میں امن برکی، عرفان اللہ، ننگیال بٹانی، احسان محسود اور طارق بٹانی شامل ہیں، جب کہ سابق طالب علم عامر بٹانی پر 5 سال کے لیے کیمپس میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔