سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پاکستانی حکومت پرسوشل میڈیااورعوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایاگیاکہ وزیراعظم نے عوام کواعتمادمیں لئے بغیرٹرمپ کے منصوبے کاخیرمقدم کیسے کیا؟وزیراعظم کوعوام کو اعتمادمیں لیے بغیرکوئی حق نہیں کہ وہ امریکی منصوبے کی حمایت کریں۔ یہ سوال پاکستان میں جمہوریت کے اصولی ڈھانچے سے جڑاہے۔یہ سوالی آوازیں ظاہرکرتی ہیں کہ ریاستِ خارجہ پالیسی میں پارلیمان،عوام اورمعتبرعلمی حلقوں کی رائے لازمی ہونی چاہئے۔کسی بھی قومی مؤقف کی قابلِ قبولیت اسی وقت ممکن ہے جب وہ داخلی اجتماعی ضمانت کے ساتھ پیش کیاجائے۔یہ سوال حکمرانی میں شفافیت کی کمی کوظاہرکرتاہے۔شفافیت،قومی مفادات کی واضح نمائندگی اورپارلیمانی بحث ایسے تقاضے ہیں جن کااحترام لازمی ہے تاکہ کوئی فیصلہ عوامی مجوزہ قدروں سے متصادم نہ ہو۔
کیاامت مرچکی ہے؟جیسے سوال عوامی غصے اورمایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔فلسطین کامسئلہ مسلمانوں کیلئے مذہبی وجذباتی حیثیت رکھتاہے۔ایسے جذباتی نعروں میں وہ غم وغضب جھلکتاہے جوتاریخی مظالم کے سامنے انسانی ضمیرکوجنجھوڑتاہے۔یہ جذباتی فریادیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں انسانیت کی صداکبھی محض استدلال نہیں رہنی چاہئے اصول،اخلاق اورانصاف ہی مطمئن انصاف کی بنیادہیں۔
کئی مذہبی جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرکے تحت کسی قوم کویہ حق ہے کہ اگراس کی زمین پرقبضہ ہوتووہ مسلح جدوجہدکرسکتی ہے۔پاکستان میں اس نظریے کی موجودگی سیاسی مؤقف کومزیدپیچیدہ کرتی ہے،خاص طورپرجب حکومتیں عوامی رضاکے بغیرکسی اہم سفارتی موڑاختیارکریں۔یہ مؤقف پاکستان کیلئے سفارتی مشکلات بڑھادیتاہے کیونکہ عالمی سطح پرمسلح مزاحمت کواکثردہشتگردی قراردیاجاتاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاہم عالمی طاقتوں کے اس غلط مؤقف کومانتے ہوئے اپنے جائز حقوق کامطالبہ اوراس کیلئے کوششیں ترک کردیں تاکہ ان کی جارحیت کوتوقانونی جوازمل جائے اوریہاں اپنے حق کیلئے قربانیوں کودہشتگردی کے پلڑے میں ڈالنے کے خوف سے ہم دستبردارہوجائیں۔
امن منصوبے میں حماس کویرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کی گئی ہے مگریہ پیشکش وقتی ہے اورمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ٹرمپ اورنیتن یاہو نے ایک نئے امن منصوبے پراتفاق ظاہرکیااورحماس کوہدفِ قبولیت میں آنے کی تنبیہ کی؛ منصوبے کے تحت حماس کوابتدائی طورپر72گھنٹوں میں20زندہ یرغمالیوں اوردرجنوں یرغمالیوں کی باقیات اسرائیل کوحوالے کرنے کاکہاگیا،جس کے بدلے غزہ میں فوجی کارروائیوں کوروکنے کی پیشکش رکھی گئی اوراس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ دہمکی بھی دے ڈالی کہ اگرحماس اس کایہ حکم نہیں مانتی تواسرائیل سے مقابلہ کرنے کیلئے تیارہوجائے۔کیاگزشتہ دوبرس سے زائداسرائیل کو حماس اورغزہ کے باشندوں کوقتل کرنے کالائسنس نہیں ملاہواجس کیلئے امریکا کاہی عطاکردہ خوفناک اسلحہ استعمال ہورہاہے تاہم حماس کی طرف سے اس دہمکی پرعملدرآمد کیلئے کئی عملی اوراخلاقی اعتراضات باقی ہیں۔
پاکستان کیلئے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ’’امن کی حمایت‘‘اور’’اصولی مؤقف‘‘کے درمیان توازن برقراررکھے۔دوریاستی حل کی بنیاد پرفلسطینی ریاست کی حمایت پاکستان کیلئے ناگزیرہے،مگراسرائیل کی براہِ راست تسلیمیت فی الحال ممکن نہیں۔اس توازن کوبرقرار رکھناہی پاکستان کی سفارت کاری کااصل امتحان ہے۔
پاکستانی پالیسی کی بنیادآج بھی وہی ہے جوقائداعظم نے رکھی تھی،انصاف پرمبنی حل،فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت، اوراسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کاانکار۔امن منصوبوں کوخوش آمدیدکہناسفارتی آداب کاحصہ ہے،مگراسرائیل کی تسلیمیت ایک ایسی لکیرہے جسے پاکستان عبورنہیں کرسکتا۔حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔امن کے نام پرفلسطینی عوام کے حقوق کوپسِ پشت ڈال دینا’’سفارت کاری‘‘توکہلاسکتاہے،مگریہ’’انصاف‘‘نہیں کہلاسکتا۔پاکستان کیلئے یہی سب سے بڑاامتحان ہے کہ وہ اپنی پالیسی کووقت کے تقاضوں کے مطابق لچکداربھی رکھے اوراصولوں پرقائم بھی۔
اس مشکل موجودہ مرحلے میں (1) جنگ بندی اورانسانی امدادکواولین ترجیح دی جائے،(2)کسی بھی طویل المدت سیاسی فیصلے سے قبل قومی مشاورت اورپارلیمانی منظوری ضروری ہے،(3)پاکستان کاتاریخی مقفجو1967کی سرحدوں اورالقدس الشریف کے باضابطہ مقف پرقائم ہیبطورِبنیادمحفوظ رہے،اور(4)بین الاقوامی سطح پرمنصفانہ،شفاف اورحقوقِ بین الاقوامی کے مطابق حل تلاش کیاجائے۔مختصراامن کی تلاش میں انصاف کوقربان نہ کیاجائییہی وہ اخلاقی اورسیاسی اصول ہیں جوکسی بھی ریاست کوآئندہ رہنمائی دے سکتاہے۔
یہ رپورٹ جہاں حقائق کوچونچ ماری کے بغیرمنظم کرتی ہے،وہاں اس میں وہ تہذیبی لمس بھی رکھاگیاہے جوفکری تمکنت،سیاست کی زبانِ شائستگی اوراسلامی استدلال سے مستفاد ہے۔تاریخ ایک آئینہ ہے؛آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتابلکہ اس روشنی کی شدت اور زاویہ بھی بتاتاہے جس سے حقیقت کے رنگ ابھرکرآتے ہیں۔پاکستان کیلئے سب سے مطلوبہ راہ وہی ہے جس میں قومی عزت،بین الاقوامی قانون،اورانسانی ہمدردی تینوں برابروقعت رکھتے ہوں۔
اب وقت کاامتحان ہے۔تاریخ ہم سے سوال کررہی ہے کیاہم اپنی بنیادوں سے ہٹ کرچلیں گے یاپھرعدل وانصاف کے اس چراغ کو روشن رکھیں گے جسے ہمارے اکابرنے جلایا تھا ؟فلسطین کے معصوم بچے،زخمی ماؤں کے آنسواورشہیدوں کالہوہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنے اصولوں پرقائم رہیں۔پاکستان کااصل وقاریہی ہے کہ وہ ظلم کے آگے جھکے نہیں بلکہ حق کی گواہی دے۔ اسرائیل کی جارحیت کوتسلیم کرنامحض ایک سیاسی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ تاریخ سے انحراف ہوگا۔امن اگرانصاف کے بغیرآئے تووہ محض دھوکہ ہے۔ یقینا پاکستان کوسفارت کاری کی نزاکتوں کودیکھناہوگامگراس کی اساس ہمیشہ وہی ہوجوقرآن نے سکھائی ہے:ظالموں کی طرف نہ جھکو،ورنہ آگ تمہیں چھولے گی۔
ہم نے سن رکھاہے،ہم نے دیکھاہے،اورہم نے محسوس بھی کیاہے ہرآنسو،ہرفریاد،ہربانجھ مٹی کی داستاں ہمارے ضمیرکے سینے پرایک گہرانشان چھوڑگئی ہے۔امتِ مسلمہ کی سربلندی اس میں ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہے،نہ کہ ظالم کے زورپرخاموشی اختیارکرے۔قرآنِ کریم ہمیں یاددلاتا ہے: بیشک مومن آپس میں بھائی ہیں۔(الحجرات)
اگرہم بھائیوں کوچھوڑکرمفادات کی سوئی کے پیچھے بھاگیں توہم اپناایمان اوراپناوقاردونوں کھودیں گے۔
آئیں،ہم پارلیمنٹ کی معتبرمسندپرغوروفکرکریں،عوامی مشاورت کوفروغ دیں،اورایک واضح قومی پالیسی بنائیں جونہ محض بین الاقوامی توازن کاتقاضاپوراکرے بلکہ ہمارے عوامی ضمیراوراسلامی اصولوں کی بھی پاسداری کرے۔جنگ بندی کوفوری ترجیح دیں،انسانی امدادپہنچائیں،مگریادرکھیں کہ کسی بھی ڈھنگ کاامن جب تک منصفانہ حقوق کویقینی نہ بنائے، وہ پائیدارنہیں ہوگا۔ان تاریخی اورآزمائش کے وقت قوم کویہ اعزازبخش دیں کہ ہم نے ظلم کے خلاف آوازاٹھائی،مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے،اوراپنے اصولوں کوبیچ راستے میں فروخت نہیں کیا۔تاریخ ہمارے بارے میں پوچھے گی توہمیں شرمندہ نہیں ہوناچاہیے، ہمیں فخرہوناچاہیے کہ ہم نے انصاف کوترجیح دی۔
ختمِ کلام سے پہلے عرضِ عاجزانہ یہ ہے پاکستان کی عزت وشرافت،امتِ مسلمہ کی بقااورانسانی ہمدردی کاتقاضایہی ہے کہ ہم نہ صرف امن کے خدوخال طے کریں بلکہ انصاف کے دامن کوکبھی نہ چھوڑیں۔آئیں،ہم ایک آوازبن کرکہیں کہ انصاف کے بغیرامن قبول نہیں۔یہی پیغام ہے کہ پاکستان ظلم کے ساتھ نہیں،مظلوم کے ساتھ کھڑاہواوریہی پیغام ہماری نسلوں کودیناہے کہ"قدس کی آزادی" محض فلسطینیوں کی جدوجہد نہیں،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی غیرت وحمیت کاامتحان ہے۔
آئیے آج ہم متحدہوکراعلان کریں پاکستان انصاف کے ساتھ،مظلوم کے ساتھ،اوراصولوں کے ساتھ کھڑارہے گا۔ہم عالمی مفاہمت میں اپناکرداراداکریں گے مگراپنی بنیادی قدروں کوقربان نہیں کریں گے۔
اللہ ہمیں ہدایت دے،ہمیں صوابدیداورحکمت عطافرمائے،اورمظلوموں کوجلدنجات عطاکرے۔