سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
آج ہم ایک ایسے دورِآزمائش میں کھڑے ہیں جس کاوزن تاریخ کے ترازوپرتولنے سے ہلکانہیں ہوتا۔تاریخ کے اوراق پربعض زخم ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جووقت کی گردسے مٹتے نہیں بلکہ ہرصدی کے ساتھ اورنمایاں ہوجاتے ہیں۔فلسطین کاقضیہ بھی انہی میں سے ایک ہیوہی ارضِ مقدس جہاں انبیائے کرام کے قدموں کی برکتیں ہیں،جہاں قبل اول کی تقدیس ہے،اورجہاں آج بھی ظلم کی تیزدھارمعصوم بچوں کے لہوکوبہارہی ہے۔بیت المقدس کی فضاں میں اذان کی صداگونجتی ہے،مگرتوپ وتفنگ کے شورنے اسے دبانے کی کوشش کی ہے۔فلسطین کی ویرانی صرف ایک جغرافیائی خلاں کانام نہیں،وہ ہمارے ایمان کی تابانی ہے،ہماری تاریخ کا نحیف ساچراغ ہے اورہماری امت کی آنکھوں میں بہہ جانے والاایک پاکیزہ خون ہے۔بیت المقدس کی دھول میں ہمارے انبیائے کرام کے نقشِ قدم جڑے ہیں،اوراسی دھرتی پرہراذان میں تاریخ نے اپنانام لکھ رکھاہے۔
پاکستان کی تاریخ بھی دراصل اسی شعورکی آئینہ دارہے۔قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ ہیں کہ’’جب تک فلسطینیوں کوان کاحق نہیں ملتا،ہم تسلیم کرنے کاجرم برداشت نہیں کریں گے‘‘۔یہ الفاظ محض ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے درد کی ترجمانی ہیں۔یہ الفاظ محض بیانِ موقع نہیں،بلکہ ایک سیاسی وایمانی ضابط حیات ہیںایک عہدِضمیرجوہمارے بزرگوں نے برقراررکھا۔آج اگرہم امن کی آغوش میں قدم رکھناچاہتے ہیں توپہلے انصاف کی بنیادرکھنی ہوگی؛انصاف کے بغیرامن،پتھروں پر کھڑی ایک عمارت ہے جوہلتے ہی گِرجا ئے گی۔
دنیاکی سیاسی بساط پربعض قدروقضاکے ایسے فیصلے ہوتے ہیں جووقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ مزیدگہرے ہوجاتے ہیں۔فلسطین کا مسئلہ انہی قضایامیں سے ہے۔سات دہائیوں سے زائدعرصہ گزرگیامگرخونِ ناحق کی بارشیں اوربمباری کی کڑک ابھی تک جاری ہے۔اس پس منظرمیں جب امریکی صدرٹرمپ نے20نکاتی امن منصوبہ پیش کیاتودنیانے اسے حیرت وتذبذب کے ساتھ دیکھا۔پاکستان نے اس منصوبے کاخیرمقدم کیامگرساتھ ہی اپنے تاریخی مقفیعنی"دوریاستی حل"کوہی خطے کے امن کی بنیادقراردیا۔یہ خیر مقدمی کلمات محض سفارتی آداب نہیں تھے،بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی کھیل کی جھلک بھی تھے۔
آج عالمی طاقتیں امن کے نام پرنقشے اورنئے منصوبے لیکرآئیں ہیں جس کی لکیریں شہداکے خون،ماں کی اجڑی کوکھ اورجوان بیٹوں کی لاشوں کے اوپرکھینچی گئی ہیں،توسوال یہ ہے کہ کیایہ منصوبے واقعی انصاف کی بنیادپرہیں یاپھرکمزورقوموں کی قربانی پرکھڑے کیے گئے ہیں؟کیاان نقوش میں مظلوم کاچہرہ دکھائی دیتاہے؟یاپھریہ وہی تختِ دوش ہے جس پر کمزورقومیں بٹھ کراپنی آزادی گنوابیٹھی ہیں؟ہمیں اپنے اصولوں کویادرکھناہوگا،اپنی عوام کی آوازسننی ہوگی،اوراپنی تاریخ کااحتساب کرناہوگا۔ہم امن کے دشمن نہیں؛ہم انصاف کے غلام ہیں۔اورجب انصاف ہوگاتوامن خودبہ خودجنم لے گاورنہ خیرمقدمی بیانات تارِامیدکوکاٹ دیں گے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہوکے ہمراہ منصوبے کااعلان کیا۔مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیاگیامنصوبہ دراصل امریکی قیادت کے اس موقف کی جھلک ہے کہ خطے کاامن صرف اسرائیل اورفلسطین کے تنازع کوکسی"فارمولے"کے ذریعے حل کرنے سے ممکن ہے۔ مگرواشنگٹن کی پالیسی میں اسرائیلی مفادات کاجھکاکھل کرسامنے آتاہے،جواس منصوبے کی غیر جانبداری پرسوالیہ نشان کھڑاکرتا ہے۔بظاہراس منصوبے کامقصدغزہ میں فوری جنگ بندی اورمشرقِ وسطی میں امن کاقیام تھا۔پاکستان نے ایک امکانی امن کی پیش رفت اوراسے ایک امید کی کرن سمجھتے ہوئے خیرمقدم کیااوراس اعتراف میں دوریاستی حل کوخطے میں دیرپاامن کے حصول کی لازمی شرط قراردیاگیاہے۔یہ خیرمقدمی جذب رسمی نہیں بلکہ مفہومی اعترافِ امکان ہے مگرناقدین کے نزدیک اسی کے ساتھ عوامی ونظریاتی تحفظات کاشوربھی بلندہواہے۔وزیرِاعظم شہبازشریف اورفوجی قیادت نے اس کی حمایت میں بیانات بھی دیے،جبکہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈارنے اعلان کیاکہ اسلامی ممالک مشترکہ امن فورس تشکیل دیں گے۔اس اعلان نے ایک طرف امن کی امیدجگائی مگردوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہواکہ آیاپاکستان اپنے تاریخی مقف سے پیچھے ہٹ رہاہے یانہیں۔
ٹرمپ نے خاص طورپرشہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیرکاذکرکرتے ہوئے کہاکہ وہ ابتداسے ہی اس منصوبے کی حمایت میں ہیں؛اس سلسلے میں شہبازشریف کا’’ایکس ‘‘ پر پیغام بھی منظرِعام پرآچکاہے۔یہ بیان پاکستان کوامریکی پالیسی کے قریب دکھانے کی ایک حکمت ہوسکتاہے۔اسحاق ڈارنے بھی اسلام آبادمیں اعلان کیاہے کہ آٹھ اسلامی ممالک مجوزہ منصوبے کے تحت ایک امن فورس تعینات کریں گے اورپاکستان بھی اس ضمن میں باضابطہ فیصلہ کرے گاایک ایسااعلان جوسرِعام غوروخوض اورعوامی بحث کا موجب بن گیاہے۔یہ نقطہ نہ صرف سفارتی اہمیت رکھتاہے بلکہ پاکستان کیلئے عملی ذمہ داری کابوجھ بھی بڑھاتاہے۔
پاکستان کیلئے مسئلہ فلسطین محض ایک سفارتی قضیہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی معاملہ ہے۔قیامِ پاکستان کے آغازسے ہی قائداعظم کامشہوراعلان کہ جب تک فلسطینی حقوق بحال نہیں ہوتے ،پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گاآج بھی پاکستانی پالیسی کافکری ضامن ہے۔یہ نہ محض تاریخی حوالہ ہے بلکہ عوامی جذبات کاآئینہ بھی ہے،جوکسی بھی حکومتی فیصلے میں قابلِ عمل میعارکے طورپرسامنے آتاہے۔
قائداعظم کایہ واضح مؤقف آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اساس ہے۔دفترِخارجہ کے بیانات ہمیشہ اسی تسلسل کودہراتے ہیںکہ فلسطین کی ایک آزاداورخودمختارریاست،جس کی بنیاد1967سے قبل کی سرحدوں پرہو،اورجس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔یہ مقف محض الفاظ نہیں بلکہ پاکستان کی اسلامی شناخت اورعوامی جذبات کاعکاس ہے۔
دوسالہ بمباری کے بعدامن کی کوئی بھی کرن غزہ کے عوام کیلئے امیدہے،لیکن جب پاکستان نے ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کی توعوامی سطح پریہ سوال گونج رہاہے کہ کہیں یہ خیرمقدم’’اصولی مؤقف‘‘سے انحراف تونہیں؟کیاپاکستان نے فلسطین کے بارے میں اپنے روایتی اورتاریخی اصولی مؤقف میں تبدیلی اختیارکرلی ہے؟اس خوف کے پیچھے عوامی جذبات کادباؤاورماضی کی مستقل پالیسی کاتسلسل ہے۔یہ تضادسیاست اورعوامی رائے کے بیچ خلیج کونمایاں کرتاہے۔
عوامی جذبات کی شدت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ سوشل میڈیاپرسوال گونجنے لگاکہ وزیرِاعظم نے عوام کواعتمادمیں لیے بغیریہ فیصلہ کیسے کیا؟مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیہ کوبھی’’سرینڈر‘‘قراردیاجاسکتاہے کیونکہ اس میں مشرقی یروشلم اور فلسطینی ریاست کاذکرتک نہیں۔سوال یہ کہ آیاخیرمقدم کرناہی تسلیمِ باطنی ہے یامحض تعمیری مذاکراتی اقدام ؟ یہ تشویش عوامی جذبات اورخارجہ پالیسی کے مابین اک دائمی تنازع کی مانند دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی’’حق خودارادیت‘‘کی تحریک کوجائزقراردیاہے۔یہ مؤقف نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ نظریاتی بنیادپربھی قائم ہے اوراس مسئلے کی اہمیت پاکستان کے ماضیِ کی خارجہ پالیسی کے تاریخی سوتوں میں ہے۔ریاستِ پاکستان نے بارہااعلان کیا کہ وہ1967سے قبل کی سرحدوں پرمبنی ایک خودمختارومتصل فلسطینی ریاست کے قیام کاحامی ہے،جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔یہ مؤقف قائداعظم کے صریحِ کلام کے مترادف بھی سمجھاجاتارہاہے جب تک فلسطینیوں کے حقوق مکمل طورپرتسلیم نہ ہوں،اسرائیل کوقبول نہیں کیاجائے گا۔اس مؤقف کی جڑیں قراردادِلاہورکے اسلامی شعوراورجناح کے بیانات میں ملتی ہیں۔
جون1967میں اسرائیل نے مصر،اردن اورشام کے ساتھ چھ روزہ جنگ میں غزہ،مغربی کنارہ،مشرقی یروشلم اورگولان کی پہاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں۔اس جنگ کے بعد اسرائیل کی حدودتین گنابڑھ گئیں۔مغربی کنارہ اورغزہ وہ علاقے ہیں جوآج تک تنازعے کی جڑبنے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ اورعالمی برادری نے اسرائیل کے ان علاقوں پرقبضے کوقانونی حیثیت نہیں دی،مگرامریکاکے حالیہ فیصلوں(یروشلم کودارالحکومت ماننا،گولان کی پہاڑیوں کواسرائیل کاحصہ تسلیم کرنا)نے مسئلے کومزیدپیچیدہ کردیا۔پاکستان امریکی کردار
کوہمیشہ’’یکطرفہ،غیرمنصفانہ اوربین الاقوامی قانون کے منافی‘‘قراردیتارہاہے۔
پاکستان نے اب تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیااورباربارواضح کررہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کوتسلیم کرنادوالگ معاملات ہیں۔ یہ اصولی فیصلہ پاکستان کے عوامی،مذہبی اور نظریاتی جذبات کی عکاسی کرتاہے۔جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگراسرائیل کوتسلیم کرناایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگیاورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔تسلیمیت کامطلب محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ اخلاقی وسیاسی اعتراف بھی ہے۔جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی،یہ تسلیم ایک’’سیاسی خودکشی‘‘کے مترادف ہے۔جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی اورانسانی امداد کی فراہمی وقتی اقدامات ہیں،مگراسرائیل کوتسلیم کرناایک بنیادی پالیسی تبدیلی ہوگیاورپاکستان ایسی تبدیلی پرآمادہ نہیں۔(جاری ہے)