سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
روس خطے میں اسلحہ فروخت کرنے والابڑاکھلاڑی،جوبھارت کاتاریخی حلیف بھی رہاہے اورایران جوایٹمی صلاحیت کے کنارے پر کھڑاہے،اورجس کے وجودسے مشرقِ وسطی کی سیاست لرزتی ہے۔ایسے نازک،بارودی خطے میں کشمیرایک سلگتاشعلہ ہے،جواگرپھٹ پڑاتویہ خطہ نہیں،بلکہ انسانیت جل کرراکھ ہوجائے گی۔کشمیرکو’’حل نہ ہونے والامسئلہ‘‘بنا کر رکھناعالمی سیاست کاوہ مکارانہ کارڈہے،جس سے طاقتورممالک اپنی اہمیت اورموجودگی کاجوازقائم رکھتے ہیں۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ عالمی طاقتیں محض ضامن نہیں رہیں،بلکہ نرغے میں آئے کشمیریوں کی بے حسی کے ساتھ تماشادیکھنے والے بے ضمیرتماشائی بن چکی ہیں۔اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں پردستخط کرکے اگروہ خودعملدرآمدنہیں کرواتیں،تویہ عہد شکنی ہے یہ فریبِ عہد،دھوکہ،اورانسانی حقوق کے نام پرننگِ انسانیت ہے۔
یورپ میں یوکرین جیسے ممالک کی خودمختاری پرفوری شورمچایاجاتاہے،پابندیاں لگائی جاتی ہیں،فوجی امداددی جاتی ہے۔مگرکشمیر جہاں لاکھوں مسلمان دہائیوں سے محصورہیں،وہاں صرف بیانات،قراردادیں اورمصلحتوں کے پردے ہیں۔یہ وہ دوہرامعیارہے جومسلم دنیااوراقوام عالم کے امن پسندعوام میں غصے،مایوسی اوربے چینی کوبڑھارہاہے۔کشمیری ان تمام خائن طاقتوں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ ناانصافی کب تلک؟کیاتم نے کبھی سوچاہے کہ وقت کامؤرخ تمہاری آئندہ آنے والی نسلوں کوتمہارے اس مکروہ کرادرکی وجہ سے کس شرمندگی کاسامناکرناپڑے گا؟
اب سوال یہ ہے کہ اس نازک مسئلے پرتاخیرکاکیامطلب اورکیا نتائج نکل سکتے ہیں؟
٭تاخیرکامطلب ہے ایٹمی تصادم کے خطرے کودن بہ دن بڑھانا۔
٭تاخیرکامطلب ہے ہزاروں معصوم کشمیری بچوں کایتیم ہونا۔
٭تاخیرکامطلب ہے خطے کوبارودکے ڈھیرپربیٹھائے رکھنا۔
1971کی المناک شبِ سیاہ میں جب مشرقی پاکستان میں دشمن نے’’را‘‘کے ذریعے نفرت کے بیج بوئے،تومودی نے سقوطِ ڈھاکہ میں راکے مکروہ کردارکی داستان کااعتراف کرتے ہوئے2015میں ڈھاکہ میں برملاکہا:ہم نے مکتی باہنی کوسپورٹ کیا،ہم نے پاکستان کو دولخت کیا۔یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی،مگراقوامِ متحدہ اورعالمی ضمیرنے مجرمانہ خاموشی اختیارکی۔
جب پاکستان اورچین نے مل کراقتصادی راہداری کاخواب سجایاسی پیک،جوگوادرکوکاشغرسے ملاتاہیتوسامراجی طاقتوں کی نیندیں اڑگئیں۔امریکا،آسٹریلیا،جاپان اوربھارت پرمشتمل کواڈدراصل چین کوگھیرنے کاحربہ ہے اورپاکستان کواس جرم کی سزادی جا رہی ہے کہ وہ مشرق سے اٹھنے والے اس آفتابِ ترقی میں شریک کیوں ہے؟
فروری2019میں جب بھارتی طیارے پاکستان کی فضاؤں میں داخل ہوئے،پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ان کی درگت بنائی۔ایک دن میں بھارت کے جدید ترین دو طیارے ،مگ-21،مار گرائے۔پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری اورپھررہائی نے پاکستان کودنیابھرمیں امن پسند قوت کے طورپرمنوایا۔دودن بعدپاکستان نے اپنے اہداف کوکامیابی سے نشانہ بنایااوربھارت کوسنگین پیغام دیاکہ اب میدان تمہارے ہاتھ سے نکل چکاہے۔مودی اس وقت پسپائی اختیارکرتے ہوئے بلبلااٹھاکہ اگرہمارے پاس آج رافیل طیارے ہوتے توہم اس خطے کی شکل ہی تبدیل کردیتے اورفوری طورپردنیاکے بہترین33فرانسیسی رافیل جنگی جہازوں کاآرڈردیکراپنے آقاؤں کویہ پیغام دیاکہ اب اسے خطے کابے تاج بادشاہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتالیکن وائے قسمت!جونہی70جنگی جہازوں کی اڑان بھرکراپنے پورے تکبر کے ساتھ(خاکم بدہن)پاکستان کوختم کرنے کیلئے فضاؤں میں اڑان بھری تومعلوم نہیں تھاکہ شیطان کے مقابلے کیلئے رحمان کی قوتیں میدان میں اترچکی ہیں۔اک صدا گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اے تاریخ!قلم تھام،کہ ایک بارپھربرصغیرکی فضاؤں میں وہی بارودکی بوہے،وہی لہوکی لالی،وہی دجل وفریب کی دھندجس میں سچائی کاسورج ماندپڑجاتاہے۔ہمالیہ کے دامن سے گوادرکے ساحل تک،ہر ذی روح نے لرزاں دل کے ساتھ وہ ساعتیں گنی ہیں،جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہوئیںایک جانب حوصلے کاہمالہ،پاکستان،اوردوسری طرف غرورومکاری کااستعارہ بھارتی گجرات کاقصاب!رات کے اندھیرے میں خاک وخون کی دہلیزسجانے پہنچ گیا۔
مئی2025میں حالیہ پاک-بھارت جنگی کشیدگی اورعالمی ضمیرکی آزمائش اس نہج پرپہنچے کہ فضاگرجنے لگی،زمین کانپنے لگی، اوردل دھڑکنے لگے۔مودی حکومت،داخلی سیاسی بحران ، کسان تحریکوں،معاشی زوال اورحزبِ اختلاف کی تابندہ پیش قدمی سے خوفزدہ،ایک مرتبہ پھراپنی پرانی چال پرآگئی ’’جنگ برائے ووٹ‘‘۔الزام تراشی کی نئی قسط مقبوضہ کشمیرمیں کسی جھوٹے حملے کے گردگھومتی ہے،جس کاالزام پاکستان پرعائدکیاگیا۔
جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدودکی خلاف ورزی کی،توپاک فضائیہ نے صرف اپنے دفاع کاحق استعمال نہ کیا،بلکہ دنیاکویہ جتا دیاکہ ہم صرف ایٹمی طاقت نہیں،بلکہ جنگی حکمت عملی میں بھی برترہیں۔بھارت کے جدیدترین لڑاکاطیارے،راڈارسے چھپنے والے اسرائیلی ڈرونز کے دعوے،سب خاک ہوگئے۔کئی مقامات پربھارت کے اہم عسکری
اہداف کونشانہ بنایاگیا اور ان سب کے عالمی میڈیا میں باقاعدہ شواہدبھی پیش کردیئے۔
جب جنگی میدان میں بھارت کوشرمناک شکست کاسامناہوا،تواس کی کمرنازک حلیف اسرائیل کے خفیہ عسکری ماہرین نے تھپتھپائی۔ اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کومتحرک کیا، جس نے فوراسیزفائرکیلئے دباؤبڑھایا۔اقوامِ متحدہ میں سفارتی شوراٹھا،اورامریکی وزیر خارجہ نے براہ راست اسلام آباداوردہلی سے رابطہ کیا۔پاکستان نے سیزفائرکی رضامندی صرف امن کی خاطردی،نہ کہ کمزوری کے تحت۔یادرہے کہ امریکی صدرٹرمپ نے ابتدامیں اس معاملے سے لاتعلقی ظاہرکی۔وہ کہتے رہے:’’یہ انڈیااورپاکستان کااندرونی معاملہ ہے‘‘۔مگرجونہی بھارت کومنہ کی کھانی پڑی،امریکی سفارتکاری متحرک ہوئی اورسیزفائرکاانتظام کروایاگیاتاکہ مودی سرکارکومزید شرمندگی سے بچایاجاسکے۔
اندرونِ ہند،مودی پرعوامی دباؤبڑھ چکاہے۔انتخابات سرپرہیں،اورہربھارتی چینل پرصرف یہی بازگشت ہے:’’پاکستان نے ہماری طاقت کابھرم توڑدیا‘‘۔اس پس منظرمیں یہ بعیدنہیں کہ مودی سرکارایک بارپھراچانک حملے کی ناپاک جسارت کرے۔اس کیلئے اسرائیل سے ڈرون اورمیزائل سسٹم کی فوری درآمد،امریکاسے خفیہ سیٹلائٹ ڈیٹاکی مدد،اور متحدہ عرب امارات وسعودی عرب سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔آخری خبریں یہ ہیں کہ ایک طرف سیزفائرکاڈرامہ اوردوسری طرف انڈیاکوبچانے کیلئے امریکی ائیرفورس کے تین بڑے جہازانڈیاکے جے پورکے ہوائی اڈے پرپہنچ چکے ہیں۔
میرے ایک بہت ہی عزیزدانشوردوست کوجب یہ اطلاع ملی توان کافوری کہناتھاکہ جیسے ایران پربمباری کرنے کی صلاحیت رکھنے والیاسٹیلتھ بمبارطیارے ڈیاگوگارسیاپررکھے ہوئے ہیں،اسی طرح ایک انتباہ کے طورپرپاکستان کوبھارتی فضائی اڈوں پر بمباری کرنے سے روکنے کیلئے بھارتی اڈے پرطیارے کھڑے کردیئے گئے ہیں،تاکہ امریکی طیاروں کی تباہی کوامریکاکے خلاف جنگی کارروائی تصورکیاجائے۔
یقیناپاکستان اب اپنے دیگرآپشنزپرغورکرے گاجوکہ انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اوراسرائیل کو واضح پیغام ملاہے کہ پاکستان اب اپنے وہ کارڈ استعمال کرے گا،جس کاانہیں وہم وگمان بھی نہیں۔سعودی عرب اوریواے ای جیسے ممالک پاکستان سے مضبوط اسٹریٹجک اوراقتصادی روابط رکھتے ہیں،بالخصوص سی پیک میں ان کی دلچسپی ایک سنجیدہ پہلوہے ۔مودی کی کوئی جارحانہ حرکت ان ممالک کوایک دوراہے پرکھڑاکردے گی،یاتووہ سفارتی غیرجانبداری اپنائیں،یاپھرپاکستان سے خاموش تائید جاری رکھیں،جیساکہ ماضی میں ہوا۔امریکاکارویہ منافقت پرمبنی رہاہے۔وہ ایک جانب بھارت کو’’چین کے مقابلے میں اہم پارٹنر‘‘کہتاہے،اوردوسری طرف پاکستان کی افواج کوبھی قریبی تعاون کایقین دلارہاہے۔اگرجنگ دوبارہ چھڑتی ہے توامریکا کوشش کرے گاکہ پاکستانی جواب سے پہلے ہی بزورطاقت ایک بارپھرسیزفائرکی میزسجادی جائے، تاکہ مودی کی اپنی عوام میں جورسوائی ہوچکی ہے،اس کامداواہوسکے لیکن اس بارشایددیرہوچکی ہوگی۔
آج پھرخطے کی فضابارودآلودہے۔مودی کی زبان سے نکلاہرلفظ ایک نئے طوفان کاپیش خیمہ ہے۔پاکستان کے صبروتحمل کوکمزوری نہ سمجھاجائے،کہ ہم امن چاہتے ہیں مگرعزت کے ساتھ۔ کشمیرکالہوپکاررہاہے،اوراب وقت آچکاہے کہ اقوام عالم اس دکھی قوم کی فریادسنیں۔یادرکھیں کہ یہ دنیاکاواحدخطہ ہے جہاں ایک چنگاری،عالمی تباہی میں بدل سکتی ہے۔اگرعالمی طاقتیں اب بھی تاخیرسے کام لیں،تو کشمیرصرف ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں،بلکہ ایٹمی قیامت کامحرک بن سکتاہے۔کشمیرجیسے سلگتے تنازعے کوحل نہ کرنا،انسانی دانش وضمیرپربدنماداغ ہے۔کیاعالمی طاقتیں امن نہیں چاہتیں؟یاجنگ ہی ان کاذریعہ معاش ہے؟
یادرکھیں:کشمیرکی وادی اگرخاموش ہے،تویہ خامشی کسی بھی لمحے ایک ناقابلِ تلافی دھماکے میں بدل سکتی ہے۔وہ دن دورنہیں جب یہ سوال گونجے گاتم نے کشمیریوں کوحق کیوں نہ دیا ؟ تم نے اپنے وعدے کیوں توڑے؟اے اقوامِ عالم!اگرتمہاراضمیرجاگتاہے توکشمیریوں کی صدائے حق سنو،وگرنہ تاریخ کے قاضی کے سامنے تمہیں جواب دہ ہوناپڑے گا۔
اے اقوامِ عالم!تم کب جاگو گے؟ جب دھرتی راکھ ہو جائے گی؟ کشمیر کے مظلوم، تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کیا تمہارے ایوانِ عدل میں ان کے آنسوؤں کی کوئی گونج سنائی دے گی؟
وادی کشمیر!ہم تجھے تنہانہیں چھوڑیں گے۔یہ چراغِ سحرجوتیرے لہوسے روشن ہے،ایک دن ظلمتوں کوچیرکرصبحِ آزادی کاپیامبر بنے گا۔ان شااللہ