قدس کی گواہی اور پاکستان کا اصولی امتحان

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہی وجہ ہے کہ وزیرِخارجہ نے کہا’’پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی‘‘۔یہ بیان دراصل عوامی اعتمادبحال کرنے کی کوشش تھی۔پاکستان کی روایتاً پالیسی یہ رہی ہے کہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیاجائے گامگردوریاستی اصول کے تحت’’فلسطینی ریاست کے تسلیم‘‘کامطلب یہ بھی بنتاہے کہ دیرِبعداسرائیل کوبالواسطہ طورپرقبولیت نصیب ہوسکتی ہییہاں فرقِ مفہوم وفرقِ طریقہ واردہوتاہے کیاپاکستان کامطلب اسرائیل کی بذاتِ خودتسلیم ہے یافلسطینی ریاست کے تسلیم کے بعدایک بالواسطہ تعلق قائم ہوسکتاہے؟
یہ سوال ہرپاکستانی کے ذہن میں ہے۔20نکاتی منصوبے میں فلسطین کی آزادریاست کاذکرہے لیکن اسرائیل کی حیثیت کے بارے میں خاموشی یاابہام ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئے یہ ایک نازک توازن ہے کہ وہ امن کاخیرمقدم کرے مگراسرائیل کی ’’براہ راست تسلیمیت‘‘کی طرف نہ بڑھے۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی وجذباتی حیثیت رکھتا ہے۔عوام اسے محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایمان اورضمیرکامسئلہ سمجھتے ہیں۔مذہبی جماعتیں کھل کراسرائیل کوناجائزقراردیتی ہیں اوربعض تودوریاستی حل کی بھی مخالفت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں کسی بڑے فیصلے سے پہلے ہچکچاہٹ کاشکاررہتی ہیں۔
یہ سوال نہایت سنگین اورمعروضی ہے۔20نکاتی منصوبے میں کہیں واضح طورپربغیرکسی الحاق کے فلسطینی ریاست کی تشکیل کا ہے؛اس طرح کابیان بذاتِ خودتنازع کوکم کرنے کی نیت رکھتاہے مگرپاکستان کے مدارِعمل میں عوامی ونظریاتی تقاضے،مذہبی جماعتوں کی حساسیت،اوربین الاقوامی حقوقِ قلبی کی پاسداری شامل ہیاس لیے صرف پلان کی منظوری کوتسلیمِ
رسمی سمجھ لیناقبل ازوقت ہوگا۔
پاکستانی دفترِخارجہ کی سرکاری سائٹ پرموجودمؤقف کہ پاکستان ایک خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام جس کادارالحکومت القدس ہوگااس امرکی تائیدکرتاہے کہ سرکاری پالیسی میں تاحال اصلِ مؤقف برقرارہے؛مگرعملی مذاکرات میں بیاناتِ خیرمقدم اور عملی شرائط دوالگ جہتیں ہیں۔یہ مؤقف سفارتی زبان میں’’ریاستی وعدہ‘‘ہے۔چنانچہ ہرحکومت،خواہ کسی بھی جماعت کی ہو،اسی تسلسل کودہراتی رہی ہے۔پاکستان واضح کررہاہے کہ امن کی حمایت اوراسرائیل کی تسلیمیت دومختلف باتیں ہیں۔ابھی اصل ہدف غزہ میں جنگ بندی اورانسانی ہمدردی کی بحالی ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت حماس کوکہاگیاکہ وہ72گھنٹوں میں یرغمالیوں کورہاکرے،بدلے میں اسرائیل کارروائیاں روک دے گا۔یہ تجویزوقتی سکون تولاسکتی ہے مگرمستقل امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ناقدین کے مطابق اس منصوبے کااصل مقصدحماس پردباڈالنا ہے تاکہ اسرائیل کوسیاسی برتری ملے۔جب اسلام آبادمیں اسحاق ڈارسے سوال کیاگیاکہ کیا پاکستان نے اسرائیل کوتسلیم کرلیاہے یانہیں، توان کاجواب یہ تھاکہ پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے اوراِس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس بیان سے ایک سیاسی تسلسل کی تصویر بنتی ہے کہ مذاکراتی باب کھلارکھنابھی حکمتِ عملی کی لچک کاحصہ ہے۔سیاست میں ایسے بیانات اکثر’’ڈیمج کنٹرول‘‘کے طورپردیے جاتے ہیں۔
پاکستان کیلئے اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح’’امن کی حمایت‘‘اور’’اصولی مؤقف‘‘کے درمیان توازن قائم کرے۔اگروہ منصوبے کی حمایت کرتاہے تواسرائیل کی تسلیمیت کا خدشہ پیداہوتاہے۔اگروہ مخالفت کرتاہے توعالمی سطح پرتنہاپڑسکتاہے۔اسی لئے پاکستان کاموجودہ مؤقف یہی ہے کہ فلسطینی ریاست کاقیام لازمی ہے،سرحدیں1967سے پہلے والی ہوں،اورالقدس دارالحکومت ہو۔یہ مؤقف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اورمسلم دنیاکے تاریخی مطالبات سے ہم آہنگ ہے۔
پاکستان کا ماننا یہ ہے کہ یہ تاریخ وجغرافیہ کاایک واضح نقطِ حوالہ ہے۔اسی حوالہ سے بین الاقوامی قانون اوراقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی جڑی ہیں،اورپاکستان اس نقطِ نظرکو اقوامِ متحدہ واسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق حلِ تنازعہ کیلئے بنیادسمجھتاہے۔
پاکستان میں عوامی سطح پریہ خوف پیداہواکہ حکومت عالمی دباؤمیں آکراسرائیل کوتسلیم کرلے گی۔سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ابہام کاشکارہیں کیونکہ عوامی جذبات مذہبی بنیادوں پرسخت اورواضح ہیں۔پاکستان میں فلسطین کامسئلہ مذہبی حساسیت سے جڑاہے۔ عوام اسے محض’’خارجہ پالیسی‘‘نہیں بلکہ’’ایمان کاحصہ‘‘سمجھتے ہیں۔اسی لئے حکومتیں اس معاملے پردوٹوک فیصلے سے گریز کرتی ہیں۔تاہم اسرائیل پرپاکستان کی پالیسی’’ناقابلِ تبدیلی‘‘ہے۔اس کوکشمیراورایٹمی پروگرام کی طرح ایک’’ریڈلائن‘‘سمجھاجاتاہے۔
ممکن ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حماس کودبامیں لانے کی چال ہو۔یرغمالیوں کی رہائی کے بعداسرائیل اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتاہے۔اس سے منصوبے کی نیت پرسوال اٹھتاہے۔ بعض ماہرین نے اسے’’مسلم دنیاکی کمزوری‘‘کہاہے۔اگراس میں القدس یافلسطینی ریاست کاذکرنہیں تویہ فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔مسلم ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی ریاست اورمشرقی یروشلم کاذکرنہ ہونا’’سرینڈر‘‘ہے۔یہ تنقید پاکستان کی عوامی تشویش کوبڑھارہی ہے۔خدشہ ہے کہ منصوبہ عرب ومسلم ممالک کی جانب سے حماس پر دباؤڈالنے اوریرغمالیوں کی رہائی کے بعدفلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی عسکری کارروائیوں کی راہ ہموار کرسکتاہے؛اس لیے امن کے نام پرصرف وقتی توقف کوحقیقی امن کے مترادف نہ سمجھاجائے حقیقی امن تبھی ممکن ہے جب انصاف اورخودارادیت کے تقاضے پورے ہوں۔
پاکستان کی طرف سے منصوبے کی حامی خبروں کے بعدچندواضح اثرات ابھرے(1)عوامی سطح پرجذباتی ردِ عمل اورمذہبی جماعتوں کی تنگ نظری،(2)سیاسی جماعتوں میں ابہام، (3)سوشل میڈیاپرشدیدتنقیداور(4)بعض سفارتی حلقوں کی تشویش کہ یہ قدم تاریخی مؤقف میں موڑثابت ہوسکتاہے۔یہ سب ایک خیالِ عام کے گرد گھومتے ہیں کہ سیاسی فیصلے عوامی اعتمادکے بغیراختیار کرنانقصان دہ ہوگا۔
تاہم مشترکہ مسلم بیانیہ’’سرینڈر‘‘کے مترادف ہے،اگراس اعلان میں مشرقی یروشلم اورفلسطینی ریاست کاواضح ذکرنہیں تویہ مفاہمت نامہ کمزورہے۔منصوبہ دراصل حماس پردباؤ ڈال کریرغمالیوں کی رہائی لینے کی چال ہے،اوراس کے بعد اسرائیل کی عسکری کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔مسلم دنیامیں یگانگت کے نام پرکئے گئے بیانات بھی بعض اوقات داخلی دباومفادات کی تابعداری میں کمزورپڑسکتے ہیں۔بظاہریہ منصوبہ’’خطرناک‘‘اور’’مکارانہ‘‘قراردیاجاسکتاہے۔
پاکستان میں مسئلہ فلسطین ایک جذباتی قضیہ ہے،بعض مذہبی جماعتیں نہ صرف اسرائیل کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتیں بلکہ دو ریاستی حل کی حمایت بھی نہیں کرتیں؛ایسے میں سیاسی جماعتیں عوامی مزاج کے مطابق متذبذب رہتی ہیں۔سوال یہ کہ حکومت کس طرح عوام کااعتماد بحال کرے گی،اورکیاوہ اس فیصلے کوقومی سطح پرپیش کرکے اکثریتی حمایت حاصل کر پائے گی؟
یہ واضح رہے کہ امن کی کوششیں(جنگ بندی،یرغمالیوں کی رہائی،ہنگامی انسانی امداد)اورکسی ریاست کی تسلیمیت دومختلف ادوار وامورہیں۔پاکستانی مؤقف کے مطابق اسرائیل کوتسلیم کرنااورفلسطین میں قیامِ امن دوالگ شے ہیں؛اس لمحے مسئلہ غزہ میں جنگ بندی کواولین ترجیح ہے مگرطویل المدت پالیسی مؤقف پرعوامی اتفاق ناگزیرہوگا۔
اسرائیل کے معاملے میں پاکستان کی پالیسی’’کوئی حکومت یاوزیراعظم تبدیل نہیں کرسکتا‘‘۔یہ دعوی ملک کے آئینِ خارجی اورقومی جذبات کاعکاس ہے،اسے قابل قبول بنانے کیلئے اخلاقی طاقت اوردلیل،عوامی جوازاوربین الاقوامی توازن کی ضرورت ہوگی۔پاکستان دوریاستی حل کوفلسطین کے حق میں دیکھتاہے،اسرائیل کی براہِ راست حمایت کے طور پر نہیں۔اس فرق کوعوامی سطح پرواضح کرنا ضروری ہے تاکہ ابہام نہ پھیلے مگراس کامطلب ہرگزنہیں کہ پاکستان بلاواسطہ اسرائیل کوفوراتسلیم کرلے گا۔دوریاستی حل دراصل فلسطینی حقِ خود ارادیت کی ضمانت اورانتقامی تسلط کے خاتمے کی جانب قدم ہے یہ مقصدطویل مگراخلاقی بنیادپرواجب ہے۔
پاکستان میں عوامی رائے فلسطین کے حق میں بہت دوٹوک اورواضح ہے؛سیاسی ومذہبی جماعتوں کی تقاریرنے اس امرکومزید تقویت دی ہے کہ پاکستانی عوام کسی ایسے امن منصوبے کوقبول نہیں کریں گے جس میں اسرائیلی لیڈرشپ کوجنگی جرائم پرمعاف کردیاجائے،وہ عوامی قبولیت حاصل نہ کرے گا۔یہی جذبات حکومت پردباؤبڑھاتے ہیں۔اس لیے حکومتی اقدامات کوعوامی مشاورت اورپارلیمانی شمولیت سے گزرنالازمی معلوم ہوتاہے۔(جاری ہے)