میرے والد کی ای سی جی نارمل نہیں تھی اور شوگر لیول بھی زیادہ تھا: مہربانو قریشی

میرے والد کی ای سی جی نارمل نہیں تھی اور شوگر لیول بھی زیادہ تھا: مہربانو قریشی

ملتان: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما مہر بانو قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، جس پر انہیں فوری طور پر جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ فجر کے وقت والد کو سینے اور سانس لینے میں تکلیف ہوئی، جبکہ ای سی جی بھی نارمل نہیں آئی اور شوگر لیول بھی خطرناک حد تک بڑھا ہوا تھا۔مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد گزشتہ دو سال سے قید میں ہیں اور اس عرصے میں ان کی صحت پر مسلسل منفی اثرات پڑے ہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے والد کی حالت بگڑی ہے۔شاہ محمود قریشی کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز ان کی مکمل جانچ کر رہے ہیں۔

 ان کے وکیل کے مطابق فجر کی نماز کے بعد طبیعت بگڑنے پر انہیں فوری اسپتال لے جایا گیا۔یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 9 مئی 2023 کے واقعات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، اور وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں۔پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہل خانہ کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ ان کی زندگی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔