تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، جسٹس حسن

تجاوزات بن رہی تھی، قبضہ ہو رہا تھا اور ریلوے آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا، جسٹس حسن

وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے ہیں کہ ریلوے خاموشی سے زمین پر قبضہ ہوتا رہا، اور قبضہ روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

 جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ ریلوے اپنی زمین کی واپسی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہا، اور زمین کی حفاظت کے لیے کوئی ذمہ دار موجود نہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریلوے کی زمین کو فعال بنانے کے لیے کوئی منصوبہ ہے، اور اگر ساری زمین واپس مل جائے تو کیا کیا جائے گا۔عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ پنجاب حکومت نے ریلوے کی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کی، جبکہ ریلوے کے پاس اصل ملکیت ہے۔ وکیل ریلوے نے بتایا کہ پنجاب نے غلطی تسلیم کی ہے اور کچھ زمینیں واپس بھی کی جا چکی ہیں۔جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ افسران ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے رہیں گے تو زمینوں پر قبضہ جاری رہے گا، اور سوال اٹھایا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ کس نے ڈالی ہے۔عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔