اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں تاکہ بیرونِ ملک جانے کی اجازت حاصل کی جا سکے، لیکن ان سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے وہ کسی بڑے جرم میں ملوث ہوں۔
اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی عدالت (ATC) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا:"میرے بیرونِ ملک سفر کی درخواست کو ایسے دیکھا جا رہا ہے جیسے میں کوئی منی لانڈرنگ کیس میں مطلوب ہوں۔ میرے کیس کا تقابل ایان علی، خواجہ آصف اور رمضان شوگر ملز جیسے بڑے اسکینڈلز کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جب کہ میرے خلاف الزام صرف یہ ہے کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام کارکنوں تک پہنچایا۔"انہوں نے کہا کہ:"صرف پیغام رسانی کی بنیاد پر میرے خلاف 60 مقدمات بنا دیے گئے ہیں۔ آج عدالت نے میرا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ دو گھنٹے لگے اپنا مؤقف پیش کرنے میں۔ کل کہا گیا کہ سماعت اڈیالہ میں ہو گی، آج کہا گیا کہ دیکھیں گے۔"علیمہ خان نے شکوہ کیا کہ اڈیالہ جیل میں زیر سماعت تمام کیسز کو بند کر دیا گیا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے انہیں جیل میں بریفنگ سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی۔
مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:"بانی نے کہا تھا کہ مودی باز نہیں آئے گا کیونکہ مودی کی بے عزتی ہوئی ہے، وہ ضرور واپس آئے گا۔ اس لیے پاکستانی قوم کو متحد اور الرٹ رہنا ہو گا۔"علیمہ خان نے اپنے خاندان کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا:"ہم موروثی ضرور ہیں، مگر یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم ہر قسم کے حملے کا سامنا کریں گے مگر بھائی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔"انہوں نے کہا:"یہ ہمارا جہاد ہے، ہماری ڈیوٹی ہے اور ہم اسے پورا کریں گے، جو مرضی کوئی کہے۔ عمران خان اکیلے نہیں ہیں، ان کا خاندان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔"علیمہ خان کا جارحانہ مؤقف اور عدالتوں میں پیشی کی تفصیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے قریبی افراد اب بھی قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، مگر وہ اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔