سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا، جس میں آغاز پر پاک فوج کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اجلاس کے دوران “معرکہ حق” کی حمایت میں ایک اہم قرارداد پیش کی گئی، جو وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں پیش کی۔ انہوں نے ایوان سے اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ دیگر کارروائی معطل کر کے اس قرارداد کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پاک فوج، افواجِ پاکستان کے سربراہ، صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ ایوان پاک فوج کی قربانیوں اور شہداء کی خدمات کو سلام پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ تاریخی حالات میں قوم نے متحد ہو کر دشمن کو بھرپور جواب دیا اور فوج، حکومت، عوام اور میڈیا نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
مراد علی شاہ نے 1947 کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام کے وقت بھی ملک کے بارے میں غلط اندازے لگائے گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے ذریعے خود کو ایک مضبوط دفاعی قوت ثابت کیا اور آج بھی قوم اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔اجلاس میں قرارداد کو ایوان کی حمایت حاصل رہی اور اراکین نے شہداء اور مسلح افواج کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔