محسن نقوی اور برطانوی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، اپسکیل پروگرام اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو

محسن نقوی اور برطانوی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، اپسکیل پروگرام اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور برطانیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 وزارت داخلہ آمد پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آہنی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ اُنہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان، برطانیہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

اپسکیل پروگرام پر خصوصی گفتگو
وزیر داخلہ نے اپسکیل (UPSKILL) پروگرام کے تحت منظم جرائم کے خلاف مشترکہ کاوشوں میں برطانیہ کی معاونت کو سراہا۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام غیر قانونی امیگریشن، بچوں سے متعلق آن لائن ہراسانی، باہمی قانونی معاونت (MLA) و حوالگی (extradition)، مجرموں کے ریکارڈ کے تبادلے، سیکس آفنڈر مینجمنٹ، غیر قانونی فنڈنگ اور انسداد منشیات جیسے اہم شعبوں میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ اپسکیل پروگرام کے تحت دونوں ممالک کے مابین سنجیدہ اور منظم جرائم کی روک تھام میں مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے تعاون سے اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے حال ہی میں 4.3 ٹن افیون پکڑی، جس کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت تقریباً 22 ملین پاؤنڈ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کا اظہار تشکر
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے افغان مہاجرین کی برطانیہ منتقلی میں پاکستان کے تعاون پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان کی مدد سے یہ عمل احسن طریقے سے جاری ہے۔ انہوں نے اپسکیل پروگرام کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون قابلِ تحسین ہے۔

اہم شخصیات کی شرکت
اس اہم ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔