اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعاون اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج اسلام آباد میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کی اہم تفصیلات:
1. خیرسگالی اور تہنیتی پیغامات:

ایرانی وزیر خارجہ نے تہران کی قیادت کی طرف سے پاکستانی قیادت کے لیے پرخلوص تہنیتی پیغامات پہنچائے۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایران کی خواہش کا اظہار کیا۔
2. دوطرفہ تعلقات پر زور:

اسحاق ڈار نے ایرانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔انہوں نے تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور علاقائی رابطے جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
3. علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال:

اسحاق ڈار نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کے گہرے تحفظات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بھارت کے حالیہ اشتعال انگیز رویے، خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد، پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔پاکستان کو واقعے میں ملوث کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے شفاف اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت کے الزامات کا مقصد دراصل کشمیر کے مسئلے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
4. دہشت گردی کے خلاف موقف:

نائب وزیر اعظم نے دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کی۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کلیدی کردار اور قربانیوں کو اجاگر کیا۔
5. علاقائی امن اور اقتصادی تعاون:

دونوں ممالک نے خطے میں اقتصادی اور تزویراتی تعاون کے لیے باہمی افہام و تفہیم بڑھانے پر اتفاق کیا۔انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
6. ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ:

اسحاق ڈار نے اس نازک جغرافیائی مرحلے پر ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کو سراہا اور اسے بروقت اور مثبت قرار دیا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی محاذ پر تناؤ بڑھ رہا ہے، اور دونوں ممالک کی قیادت نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔