رئوف گجر کیخلاف کارروائی ریٹائرڈ انسپکٹر ظہیر اور بیٹے پر تشدد، حبس بیجا میں رکھنے پر ہوئی
بوریوالا (خصوصی رپورٹ) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ساؤتھ پنجاب کامران خات نے اختیارات کے ناجائز استعمال، (ر)انسپکٹر اور اسکے بیٹے پر تشدد کے الزام میں ایس ایچ او تھانہ شیخ فاضل انسپکٹر رؤف اقبال گجر کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔محکمانہ دستاویزات کے مطابق سب انسپکٹر رؤف اقبال گجر جب بطور ایس ایچ او تھانہ صدر وہاڑی تعینات تھے تب ان کے خلاف ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر (ر) ظہیر احمد بھٹی اور ان کے بیٹے راول ظہیر کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور غیر قانونی حراست میں رکھنے کی شکایت موصول ہوئی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس افسر نے دونوں کو تھانے بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا، گاڑی کو نقصان پہنچایا اور ان کے موبائل فون اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔بعد ازاں اے آئی جی انویسٹی گیشن ساؤتھ پنجاب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ متاثرہ افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔ انکوائری کے دوران متعلقہ افسر ویڈیو ثبوت اور تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش نہ کر سکا۔محکمانہ کارروائی کے بعد پہلے مرحلے میں افسر کو تنخواہ میں کمی کی سزا دی گئی ،تاہم بعد ازاں معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے پر سزا ناکافی قرار دی گئی، چنانچہ اے آئی جی ساؤتھ پنجاب نے پنجاب پولیس رولز کے تحت سزا میں اضافہ کرتے ہوئے سب انسپکٹر رؤف اقبال کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔