میئر کراچی کا گورنر سندھ کو کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے لیے خط

میئر کراچی کا گورنر سندھ کو کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے لیے خط

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو کراچی کے ترقیاتی پیکیج کے حوالے سے ایک خط لکھا ہے، جس میں مختلف منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت سے مالی معاونت کی درخواست کی گئی ہے۔

خط میں میئر کراچی نے وفاق سے 100 ارب روپے کے پیکیج کی سفارش کی ہے تاکہ شہر کی ترقی کے مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ ان منصوبوں میں شاہراہِ بھٹو سے نیشنل ہائی وے اور پورٹ قاسم تک ایکسپریس وے بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ناردرن بائی پاس کی توسیع اور کراچی پورٹ تک سڑکوں کی مرمت کے لیے 35 ارب روپے کی ضرورت کا ذکر کیا گیا ہے۔

میئر کراچی نے گٹر باغیچہ میں منشیات کے عادی افراد کے لیے بحالی مرکز بنانے، سفاری پارک کی توسیع، اور کراچی کے ساحلی علاقوں کی بحالی کے لیے بھی وفاق سے رقم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے مختلف رقمیں تجویز کی گئی ہیں جن میں 2 ارب روپے گٹر باغیچہ کے گرین زون کے لیے، 5 ارب روپے سفاری پارک کی توسیع اور ساحلی علاقوں کی بحالی کے لیے شامل ہیں۔

مزید برآں، کراچی ہاربر کی صفائی اور بحالی کے لیے 5 ارب روپے اور ناردرن بائی پاس پر جدید مذبحہ خانہ اور گوشت پروسیسنگ زون بنانے کے لیے بھی مالی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ کورنگی کریک پر پانی ری سائیکلنگ پلانٹ کے قیام کے لیے بھی 5 ارب روپے کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں وفاقی حکومت کی زمین پر پارکنگ پلازا بنانا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بہتر کی جا سکیں۔ میئر کراچی نے گورنر سندھ سے اپیل کی کہ وہ ان منصوبوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ خط کراچی کی شہری ترقی کے لیے اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، ماحول کی صفائی اور شہری سہولتوں کے لئے وفاقی سطح پر تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔