شیخ وقاص اکرم، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ہیں، نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن اور حالیہ ملاقاتوں پر تفصیل سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، اور ان ملاقاتوں کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات کو سنا اور ان کا حل تلاش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقاتیں پی ٹی آئی کے بانی، عمران خان کے وژن کے مطابق کی گئی ہیں اور اب ان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم مذاکرات میں شرکت کی ہے اور وہ اپنے ملک کی فلاح کے لئے مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھی ہوئی ہے، چاہے مخالفین کی جانب سے کتنی ہی مشکلات آئیں۔انہوں نے نوجوانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اپنے حقوق کا بخوبی علم ہے اور انہیں اپنی طاقت کا اندازہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو نوجوان اغواء کیے گئے ہیں، ان کو فوراً رہا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ نوجوانوں کے جعلی پیجز بنا کر انہیں اغواء کیا گیا ہے اور ان پر تشدد بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت بن چکی ہے، اور اس بات کی اہمیت ہے کہ حکومت وقت ان کی رہائی میں تاخیر نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک نوجوان، حیدر سعید، جو پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیم کا حصہ نہیں ہے، ہمیشہ احتجاج میں شریک ہوتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں پر ایف آئی آر کٹوانا اور تحقیقات کرنا جائز ہے، لیکن گھروں سے لوگوں کو اٹھانا غیر قانونی اور غلط عمل ہے۔شیخ وقاص اکرم کی اس پریس کانفرنس میں ان تمام نکات پر روشنی ڈالی گئی جو پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی صورتحال اور اس کے ساتھ جڑے مسائل کے حوالے سے اہم ہیں۔