پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ایک ایسی شکست کا سامنا کیا ہے جو ان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی بدترین شکستوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 9 وکٹوں سے آؤٹ کلاس کرتے ہوئے شکست دی۔نیوزی لینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان کی ٹیم اس فیصلے کے بعد اپنی بیٹنگ میں مکمل طور پر ناکام رہی اور 91 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ نیوزی لینڈ نے اس معمولی ہدف کو صرف 10.1 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا، اور اس طرح 5 میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کی۔پاکستان کی اس شکست نے نہ صرف انہیں ایک ہزیمت کا سامنا کرایا بلکہ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں پاکستان کی بدترین شکست بھی ثابت ہوئی۔ کیویز نے پاکستان کے 92 رنز کے ہدف کو 59 گیندوں پہلے حاصل کیا، جو کہ کسی بھی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ میں پاکستان کی سب سے جلدی شکست ہے۔اس سے قبل 2018 میں آسٹریلیا کے خلاف بھی پاکستان کو ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب آسٹریلیا نے پاکستان کا 55 گیندوں پہلے ہدف حاصل کیا تھا۔
تاہم، نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی یہ شکست اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ اس نے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ کو مزید بگاڑ دیا۔یاد رہے کہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف بدترین شکست 2016 میں ویلنگٹن میں ہوئی تھی، جب پاکستان 196 رنز کے تعاقب میں صرف 101 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا اور نیوزی لینڈ نے انہیں 95 رنز سے شکست دی تھی۔پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچز کی سیریز کا دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ منگل کو کھیلا جائے گا، اور پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ اپنی اس شکست کا ازالہ کرنے کا موقع ہوگا۔