اداکارہ مومنہ اقبال اور مذہبی اسکالر ناصر مدنی کے درمیان جاری تنازع نے قانونی رخ اختیار کر لیا ہے، اور معاملہ اب سوشل میڈیا بحث سے آگے بڑھ کر باقاعدہ قانونی چارہ جوئی تک پہنچ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مومنہ اقبال نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عدنان احسان خان کے ذریعے ناصر مدنی کو قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی کی جانب سے اداکارہ کے بارے میں مبینہ طور پر دیے گئے بیانات ان کی عزت، ساکھ اور پیشہ ورانہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناصر مدنی اپنے بیانات کی فوری طور پر وضاحت کریں، ان کی باقاعدہ تردید جاری کریں اور متعلقہ مواد (اگر کسی پلیٹ فارم پر موجود ہے) کو ہٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر غیر مشروط معافی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو مومنہ اقبال اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں، جس میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب مومنہ اقبال نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری میں ناصر مدنی کے بیانات پر سخت ردعمل دیا۔ اداکارہ نے الزام لگایا کہ ان کے بارے میں منبر پر بیٹھ کر ایسے ریمارکس دیے گئے جنہوں نے ان کے مطابق غلط فہمیوں اور الزامات کو ہوا دی۔
اپنے بیان میں مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں انصاف کی امید رکھتی ہیں اور ان کے بارے میں کیے گئے دعوؤں کی حقیقت صرف وہ اور اللہ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کریں گی۔اداکارہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی شخص پر بغیر ثبوت الزام لگانا اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، اور انہوں نے سورۂ نور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔دوسری جانب ناصر مدنی کی جانب سے قانونی نوٹس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ شوبز اور سوشل میڈیا حلقوں میں اس تنازع پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جبکہ اب یہ معاملہ اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کے قانونی اقدامات پر ہوگا۔