چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی 9 سالہ بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں متعدد گولیاں لگنے اور شدید اندرونی چوٹوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچی کی موت متعدد گولیاں لگنے کے باعث ہوئی، جن سے ہونے والے شدید خون بہاؤ (Hypovolemic Shock) نے جان لی۔ ڈاکٹروں کے مطابق شدید خون بہنے اور صدمے کے باعث دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کے جسم پر گولیوں اور زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں دائیں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ دائیں پھیپھڑا بری طرح متاثر ہوا اور سینے میں خون جمع ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق گولیوں کے باعث جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں، جبکہ دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر داخل اور خارج ہونے کے گہرے زخم موجود تھے۔میڈیکل رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام زخم “اینٹی مارٹم” ہیں، یعنی گولیاں موت سے پہلے ماری گئیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخم اتنے شدید تھے کہ عام حالات میں فوری موت واقع ہو سکتی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان 6 سے 8 گھنٹے کا وقفہ تھا، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے تمام شواہد، خون آلود کپڑے اور ایکسرے پولیس کے حوالے کر دیے ہیں۔واضح رہے کہ 10 جون کو چکوال میں فائرنگ کے واقعے میں ہانیہ عدیل کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی تھیں۔ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔