کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں 7 سالہ بچے صارم کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے قتل کیس کی تفتیش کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل کی تصدیق کے بعد کیس کی تفتیش اے وی سی سی (انسداد دہشت گردی سیل) سے واپس لے کر زون پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایس پی صدر نبیل کھوکھر نے بتایا کہ صارم کے لاپتہ ہونے کے دن موبائل فون سروس بند تھی، جس کی وجہ سےفینسنگ نہیں کی جا سکی، تاہم تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جا رہی ہے۔اس کیس کی مزید پیچیدگی 4 سالہ ارشمان کی گمشدگی سے جڑی ہے۔ ارشمان نومبر 2024 میں ایک شادی کی تقریب میں اپنی والدہ سے بچھڑ کر لاپتہ ہوگیا تھا اور اس کی لاش 18 جنوری کو اسی علاقے کے تالاب سے ملی۔
بچے کا والد کینسر کا مریض تھا، اور بیماری کی حالت میں اپنے بچے کے اغوا کے 22 دن بعد گمشدگی کے صدمے کی وجہ سے وفات پا گیا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تفتیش میں تمام زاویوں سے غور کیا جا رہا ہے، تاکہ بچے کے قتل اور لاپتہ ہونے کے واقعے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔