سندھ حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے متعلق تجاویز سامنے آئی ہیں، جن پر صوبائی کابینہ اجلاس میں غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ کے اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے جبکہ پنشن میں 5 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ مالی مشکلات کے باعث بڑے اضافے کی گنجائش محدود ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 10 فیصد اضافہ کرنے پر غور کیا گیا تھا، تاہم مالی صورتحال کے باعث اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔کابینہ اجلاس میں بعض اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ کم گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں وہی اضافہ کیا جائے گا جو وفاقی حکومت کی جانب سے طے کیا جائے گا، جبکہ وفاق نے حال ہی میں 7 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آئندہ بجٹ تقریر میں اس حوالے سے حتمی اعلان کریں گے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بجٹ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی، جس میں صوبائی وزراء، مشیروں، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اقدامات کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ حکومت نے غربت میں کمی اور کم آمدن طبقے کی بہتری کے لیے خصوصی اقدامات شامل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔