وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ تقریر کے دوران ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔
ایم کیو ایم نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا جبکہ پی ٹی آئی اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
وزیراعلیٰ نے سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد اضافہ
گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
تمام پنشنرز کے لیے 8 فیصد پنشن میں اضافہ
معذور افراد کے کنوینس الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا
پانچ ٹیکسز ختم
کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے حکومت سندھ نے پانچ محصولات ختم کرنے کا اعلان کیا:
پروفیشنل ٹیکس
کاٹن فیس
انٹرنیٹ ڈیوٹی
لوکل سیس
ڈرینیج سیس
امن و امان اور پولیس اصلاحات
مراد علی شاہ نے کہا:
امن و امان کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے
کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی آئی ہے، کچے کے علاقوں میں کامیاب آپریشنز
25 ہزار سے زائد پولیس بھرتیاں کی گئیں
پولیس شہداء پیکیج میں اضافہ
پولیس اسٹیشنز کو براہ راست فنڈز اور ایس ایچ اوز کو مالیاتی اختیارات فراہم
تعلیم، آئی ٹی اور نوجوانوں کا روزگار
تعلیم کا بجٹ بڑھا دیا گیا
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو مزید فنڈز دیے گئے
35 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی تربیت دینے کا منصوبہ
یونیسیف کی مدد سے ہزاروں اسکولوں کی مرمت کی گئی
وزیراعلیٰ کا اظہار تشکر
مراد علی شاہ نے عوام اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:"یہ میرے لیے اعزاز ہے کہ دسویں بار سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔ عوام نے حالیہ انتخابات میں پہلے سے زیادہ اعتماد کیا، ہم ان کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔"