اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بجٹ مسودے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی منظوری دی جائے گی، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور ٹیکس ریلیف کی مد میں تقریباً 50 ارب روپے تک ریلیف دینے کی تجویز رکھی ہے، جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز اور اسٹیشنری اشیا پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے، تاہم درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس ریلیف دینے اور روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مقامی سطح پر EV مینوفیکچرنگ کے لیے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 1727 ارب روپے وصولی، قرضوں پر سود کے لیے 7824 ارب روپے اور دفاعی شعبے کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اقتصادی تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔بجٹ میں ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیوں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور بعض اشیائے خورونوش پر سیلز ٹیکس کے نئے قواعد متعارف کرانے کی بھی تجاویز شامل ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات اور انفورسمنٹ کے ذریعے ایک ہزار ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا جا رہا ہے۔