لاہور : پنجاب حکومت نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں وفاقی حکومت کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جب کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ بھی کیا جائے گا۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ:
گریڈ 1 تا 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ایک ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے گا، جیسا کہ وفاقی بجٹ میں اعلان کیا گیا تھا۔
پس منظر:
یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس فیصلے کو صوبے کے مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے "عوام دوست اور ملازم دوست" قدم قرار دیا ہے۔
بجٹ کا اعلان:
پنجاب بجٹ 2024-25 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق یہ ایک "ٹیکس فری اور پرو پبلک بجٹ" ہوگا، جس میں عام شہریوں پر نئے ٹیکس نافذ نہیں کیے جائیں گے۔
دیگر اہم نکات:
ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے گا، مگر عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔نئے ہسپتال، سڑکیں اور صاف ستھرا پنجاب بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ترقیاتی منصوبوں پر بھی خاطر خواہ رقم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبے بھر کے سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بجٹ میں کیے جانے والے یہ اقدامات ان مطالبات کو کسی حد تک پورا کرتے ہیں، تاہم حتمی منظوری بجٹ اجلاس میں پیش کی جانے والی تفصیلات کے بعد دی جائے گی۔