عام استعمال کی ہزاروں اشیا پر سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منظوری ،60ارب کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ

 3400اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ 
 پیکٹ بند اشیائے خورونوش، بچوں کے فارمولا دودھ، مٹھائیوں، کوکنگ آئل، برانڈڈ جوتوں اور برانڈڈ کپڑوں پرسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس لگایا جائے گا ،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ایف بی آر کی سخت ترین تجاویز کو تسلیم کرلیا 
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)عام استعمال کی 3400اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ ہے،نئے بجٹ کی منظوری کے اہم ترین مرحلے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے عوام پر مہنگائی کا ایک نیا بم گرانے کی باقاعدہ منظوری دے دی، جس کے تحت پیکٹ بند اشیائے خورونوش، بچوں کے دودھ، کپڑوں اور جوتوں سمیت 3 ہزار سے زائد چیزیں اب شدید مہنگی ہو جائیں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور قومی خزانے کو بھرنے کے لیے ایف بی آر کی سخت ترین تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے عام استعمال کی ہزاروں اشیا پر سٹینڈرڈ سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی نے پیکٹ بند اشیائے خورونوش، بچوں کے فارمولا دودھ، مٹھائیوں، کوکنگ آئل، برانڈڈ جوتوں اور برانڈڈ کپڑوں سمیت عام استعمال کی 3 ہزار 400 سے زائد چیزوں پر اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کر لی ہے، اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے ایف بی آر کو مخصوص حالات میں کمپنیوں کا ری آڈٹ کرنے کے وسیع اختیارات اور نیشنل فیس لیس ٹیکس نظام نافذ کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی، ایف بی آر کے ان سخت اقدامات اور نئے ٹیکسوں کی بدولت 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔