اقوامِ متحدہ کا افغان طالبان سے خواتین پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

نیویارک (آئی این پی )اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں افغانستان کے طالبان حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خواتین کے خلاف اپنی سخت پابندیوں کو فوری طور پر واپس لیں اور افغانستان کے اندر سرگرم ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کریں جن پر پاکستان سرحد پار حملے کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے  کے مطابق چین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر فو کونگ جن کے ملک نے اس قرارداد کی سرپرستی کی، نے کہا کہ امید ہے کہ افغان حکومت انسانی حقوق، خصوصا خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے زیادہ فعال اقدامات کرے گی اور شمولیت اور ذمہ داری کا ایک مثبت رخ دنیا کو پیش کرے گی۔ یہ قرارداد افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے سیاسی مشن کی مدت 17 جون 2027 تک بڑھاتی ہے اور اسے یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ بلا امتیاز انسانی امداد کی فراہمی میں مدد کرے اور قومی و مقامی سطح پر ایسی حکمرانی کو فروغ دے جس میں جنس، مذہب یا نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو، اور جس میں خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں اور معذور افراد کی مکمل، مساوی، مثر اور محفوظ شرکت یقینی بنائی جائے۔   قرارداد کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو طالبان کے سخت لباس ضابطے کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے ایک احتجاج کو طالبان پولیس نے پرتشدد طریقے سے منتشر کر دیا۔اقوامِ متحدہ کے مشن (یوناما) کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ یہ قرارداد افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ طالبان، علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری کے درمیان مذاکرات اور رابطوں کو آسان بنانے میں کردار ادا کرے۔پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں سفیر عاصم احمد نے کہا کہ یہ قرارداد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر سلامتی کونسل کی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے جو بدستور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔