سیاسی موقف اور عمران خان سے وابستگی
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان سیاسی قیدی ہیں اور ان کی رہائی کے لیے سیاسی تحریک جاری رکھی جائے گی۔عمران خان کے بیانیے کو "عوامی مقبولیت یافتہ" قرار دیا اور کہا کہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی تحریک کے لیے ورکرز کو مقامی سطح پر جلسوں کے ذریعے متحرک کیا جا رہا ہے۔
سی پی این ای وفد سے ملاقات
کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) کے وفد سے ملاقات میں:اخبارات کو درپیش مالی مسائل، اشتہاری واجبات، اور صحافتی آزادی پر بات ہوئی۔وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا کہ بقایا جات کی ادائیگی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔انہوں نے کہا: "سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کے باوجود اخبار کی اہمیت مسلمہ ہے"۔
معاشی نظم و ضبط اور بجٹ
گنڈاپور نے بتایا کہ حکومت سنبھالنے پر خزانے میں صرف 18 دن کی تنخواہ کے پیسے تھے۔بہتر مالی نظم و ضبط سے 250 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کی گئی۔ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ میں 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اگلے سال مزید 150 ارب شامل کیے جائیں گے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا تھرو فارورڈ 13.5 سال سے کم کر کے 4 سال کر دیا گیا۔
ترقیاتی منصوبے اور بجٹ
541 ترقیاتی منصوبے گزشتہ سال مکمل کیے گئے۔اگلے سال کے لیے 195 ارب روپے کے ADP کا اعلان، جو بڑھا کر 250 ارب کیا جائے گا۔رمضان اور عید پیکج کی صورت میں 20 ارب روپے مستحقین میں تقسیم کیے گئے۔جہیز فنڈ کی رقم 25 ہزار سے بڑھا کر 2.5 لاکھ روپے کر دی گئی۔
صحت اور تعلیم کے اقدامات
صحت کارڈ اسکیم کے 17 ارب روپے بقایا جات ادا کیے گئے۔71 فیصد علاج سرکاری اسپتالوں میں کرایا جا رہا ہے (پہلے 25%)۔13 ارب روپے کی سالانہ بچت مؤثر مانیٹرنگ سے ہوئی۔جامعات اور دیگر اداروں کے 72 ارب روپے کے بقایا جات ختم کیے گئے۔
ریونیو میں اضافہ
مائننگ رائلٹی: 5.5 ارب سے بڑھ کر 12 ارب روپے سالانہ۔
سیمنٹ انڈسٹری رائلٹی: 2.5 ارب سے بڑھ کر 7.75 ارب روپے۔
ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن میں 50 فیصد اضافہ۔
???? توانائی اور صنعتی ترقی
800 میگاواٹ پن بجلی منصوبے آئندہ 3 سال میں مکمل ہوں گے۔
صنعتی شعبے کو مقامی بجلی رعایتی نرخوں پر دی جائے گی۔
132,000 خاندانوں کو سولر سسٹم مفت یا آدھی قیمت پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔
???? آئی ایم ایف اہداف کی تکمیل
کے پی حکومت نے آئی ایم ایف کے 100 فیصد اہداف پورے کیے۔
معاشی نظم و ضبط اور مالیاتی شفافیت کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔