خیبرپختونخوا: شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد 3 ارب روپے جاری، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں

خیبرپختونخوا: شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد 3 ارب روپے جاری، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے 3 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔

 وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہو گئے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں سے ملاقات اور ان کے مسائل سن سکیں۔

ریلیف اور ریسکیو آپریشنز:
صوبائی حکومت کی ٹیم پہلے ہی متاثرہ مقامات پر موجود ہے اور ریلیف سرگرمیوں اور متاثرین کی ضروریات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے میڈیا کوآرڈینیٹر فراز احمد مغل کو بھی متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا تاکہ ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی اور متاثرین کے مسائل براہ راست سنے جا سکیں۔

اہم اجلاس اور بریفنگ:
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پی ڈی ایم اے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات، ریسکیو آپریشنز اور ریلیف سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق:مجموعی طور پر 309 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، 23 زخمی ہیں اور ان کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر پر سروے جاری ہے۔
ریلیف اور امدادی اقدامات:

متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں، ادویات اور ضروری اشیائے خورونوش پہنچائی جا رہی ہیں۔پی ڈی ایم اے کو 1.5 ارب روپے اور محکمہ مواصلات کو 1.5 ارب روپے جاری کیے گئے تاکہ متاثرہ علاقوں کی فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے۔جان بحق افراد کے لواحقین کے لیے 50 کروڑ روپے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو فراہم کیے گئے ہیں۔صوبے میں فلڈ اور ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ وفاقی حکومت اور پاک فوج کی معاونت سے ریلیف اور بحالی کا عمل جاری ہے، جس کی قیادت سول انتظامیہ کرے گی۔
وزیراعلیٰ کے اقدامات اور ہدایات:
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ہدایت دی کہ:سب سے پہلے منقطع رابطہ سڑکوں کو بحال کیا جائے، جہاں ممکن نہ ہو وہاں ہیلی کاپٹر سروس شروع کی جائے۔متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی 2 دن کے اندر یقینی بنائی جائے۔خوراک کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ آئے۔ملحقہ اضلاع سے اضافی طبی عملہ بھیجا جائے۔ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی چیف سیکرٹری اور پی ڈی ایم اے کے مؤثر نظام کے تحت کی جائے۔انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ہیوی مشینری فوری طور پر موبیلائز کی جائے۔
مالی امداد کی تفصیلات:

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ خزانہ نے سیلاب متاثرین کے لیے تقریباً 3 ارب روپے جاری کیے ہیں:

1.56 ارب روپے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو سڑکوں، پلوں اور شاہراہوں کی مرمت کے لیے۔
1 ارب روپے پی ڈی ایم اے اور ریلیف سرگرمیوں کے لیے۔
50 کروڑ روپے پہلے ہی متاثرہ علاقوں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔
صوبائی حکام متاثرہ انفراسٹرکچر اور معیشت پر پڑنے والے مالی اثرات کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور مزید ریلیف و بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔