یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی افواج کے شدید حملے میں 15 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
یہ حملہ حالیہ دنوں میں سب سے مہلک اور منظم حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، روسی فوج نے کیف پر 440 ڈرونز اور 32 میزائلوں سے حملہ کیا، جن میں زیادہ تر نشانہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو بنایا گیا۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے "دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپ کو اس پر سخت ردعمل دینا ہوگا۔یوکرینی حکام کے مطابق، دارالحکومت کے 27 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تعلیمی ادارے، رہائشی عمارتیں، اسپتال اور دیگر عوامی مقامات شامل تھے۔ان حملوں کے نتیجے میں شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہنگامی امدادی ٹیمیں رات بھر ریسکیو آپریشن میں مصروف رہیں۔
یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز اور میزائلوں کو راستے میں تباہ کیا، تاہم کچھ حملے ایسے تھے جو شہری علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔روس کی جانب سے اس حملے کی فوری طور پر کوئی وضاحت یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب، یورپی یونین اور نیٹو حکام نے کیف پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "شہری علاقوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"