امن مذاکرات کی امیدوں کے باوجود کیف پر روسی میزائل حملہ، 6 افراد زخمی

امن مذاکرات کی امیدوں کے باوجود کیف پر روسی میزائل حملہ، 6 افراد زخمی

یوکرین میں جنگ بندی کی امیدوں کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے، جہاں روس کی جانب سے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد دارالحکومت کیف پر میزائل حملہ کیا گیا۔

حملے کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ بدھ کی شب ہونے والے حملے میں شہر کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ حملے کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کیے ہوئے ہیں۔ دونوں نمائندے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور امن معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے گزشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل یوکرینی قیادت سے بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ ان سفارتی رابطوں کو جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان سہ فریقی مذاکرات فروری میں معطل ہوگئے تھے۔ مذاکراتی عمل رکنے کے بعد روس کی جانب سے حملوں میں شدت آنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ یوکرین کو مغربی ممالک کی طرف سے فراہم کیے جانے والے فضائی دفاعی نظام اور میزائل شکن ہتھیاروں کی قلت کا سامنا بھی رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ روسی صدر پیوٹن کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں روس اور یوکرین امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔تاہم، مذاکرات کی بحالی کے امکانات کے باوجود کیف پر تازہ میزائل حملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ ختم کرانے کی سفارتی کوششوں کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ زمینی صورت حال اور مسلسل حملوں کے باعث امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔