جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ قومی بجٹ خود حکومت کے لیے وبالِ جان بن گیا ہے، جس پر حکومتی اتحادی جماعتیں بھی مطمئن نظر نہیں آتیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو نہ صرف عوام کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھ پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ پر تنقید کر کے حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ تنقید اور مخالفت وقتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ:"پیپلز پارٹی نے حکومت میں رہ کر ایم کیو ایم کی طرح بلیک میلنگ کا کردار اپنا لیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔"لیاقت بلوچ نے قومی معیشت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس کا براہِ راست نقصان چھوٹے کسانوں اور دیہی معیشت کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:"اسٹیٹ بینک نے حالیہ رپورٹ میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر حقیقت آشکار کر دی ہے۔ زراعت پیچھے چلی گئی ہے اور اس کی بحالی کے لیے فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔"نائب امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت بجٹ کو ازسرِ نو مرتب کرے، عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے اور معاشی شعبوں کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔