لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ "عوام دشمن، غریب مکاؤ اور زراعت مٹاؤ" پالیسیوں کا عکاس ہے، جسے زبردستی قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔
بجٹ پر تنقید:
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ:"وزیر خزانہ بجٹ پیش کرتے وقت خود پریشان تھے اور حکومتی بینچوں پر ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔"انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مندرجات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی غلامی میں مکمل طور پر جھک چکی ہے، اور بجٹ میں کوئی بھی ریلیف عوام یا کسان کے لیے نہیں رکھا گیا۔
کسان اور زراعت پر اثر:
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ:"بجٹ میں زراعت کو مکمل تباہ اور کسان کو زندہ دفن کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔"انہوں نے الزام لگایا کہ زرعی شعبے کو دانستہ نظرانداز کر کے ملک کے غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
احتجاج کی کال:
نائب امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ:"ایسا عوام دشمن بجٹ ملک گیر عوامی احتجاج کو جنم دے گا۔ عوام اس بجٹ کو مسترد کر چکے ہیں اور اب وہ سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہیں۔"
حکومت پر تنقید:
انہوں نے کہا:"ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے خود عوام کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اگر اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں بھی ہے تو یہ بجٹ خود حکومت کے خلاف عوام کو احتجاج کی شاہراہ پر لے آئے گا۔
پس منظر:
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے حال ہی میں بجٹ پیش کیا ہے، جس پر نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ عوامی حلقوں اور ماہرینِ معیشت کی طرف سے بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بجٹ کے خلاف عوامی مہم کا آغاز کرے گی۔