تہران / ویب ڈیسک – ایران کے دارالحکومت میں اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملے میں سرکاری ٹیلی ویژن چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین میڈیا ورکرز شہید ہو گئے۔
نشریات کے دوران حملہ، اینکر محفوظ رہی
حملہ اُس وقت ہوا جب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشریات جاری تھیں۔حملے کی ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں:خاتون اینکر کو خوفزدہ ہوکر اسٹوڈیو چھوڑتے ہوئے دیکھا گیا۔اسٹوڈیو میں موجود دیگر عملہ بھی فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوا۔
شہداء کی شناخت اور حالات
شہید میڈیا ورکرز میں شامل تھے:
ایک کیمرہ مین
ایک پروڈیوسر
ایک ساؤنڈ ٹیکنیشن
ایرانی میڈیا کے مطابق:
دیگر متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
ٹی وی کی مرکزی نشریاتی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
حملے کی مذمت
ایرانی وزارت اطلاعات نے حملے کو "اظہار رائے کی آزادی پر حملہ" قرار دیا۔ایران کے سرکاری ترجمان نے کہا:"میڈیا کے مراکز پر حملہ جنگی جرم ہے، جس پر عالمی اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔"
عالمی ردعمل
پریس فریڈم تنظیمیں جیسے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔انسانی حقوق کے اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ:اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔
پس منظر
یہ حملہ اسرائیل کی ان متعدد کارروائیوں میں سے ایک ہے جو حالیہ دنوں میں تہران، اصفہان اور اہواز میں کی گئیں۔اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف فوجی اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن اس حملے سے یہ دعویٰ متنازع ہو گیا ہے۔