اسرائیلی حملے میں مزید 3 ایرانی جوہری سائنسدان شہید، خرم آباد میں 4 اسرائیلی ڈرون تباہ

 اسرائیلی حملے میں مزید 3 ایرانی جوہری سائنسدان شہید، خرم آباد میں 4 اسرائیلی ڈرون تباہ

مشرقِ وسطیٰ کی فضا بدستور کشیدہ ہے، جہاں ایران کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں میں مزید انسانی جانوں کا نقصان سامنے آیا ہے۔

 ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیلی حملے میں تین مزید جوہری سائنسدان شہید ہو گئے ہیں، جس کے بعد شہید ہونے والے ایرانی جوہری سائنسدانوں کی مجموعی تعداد نو (9) ہو چکی ہے۔

زنجان میں حملہ: پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں اسرائیلی فضائی حملے میں پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے تین اہلکار شہید ہو گئے۔ حملے کا ہدف مبینہ طور پر ایک اہم عسکری تنصیب تھی جس میں جوہری سائنسدان اور سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

خرم آباد: اسرائیلی ڈرونز اور مائیکرو ایئرکرافٹ تباہ
دوسری جانب صوبہ لورستان کے ڈپٹی گورنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خرم آباد میں ایرانی فضائی دفاع نے چار اسرائیلی ڈرون اور متعدد مائیکرو ایئرکرافٹ کو کامیابی سے مار گرایا۔
حکام کے مطابق ڈرون حملے میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

پس منظر
اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایران میں اب تک درجنوں مقامات پر اسرائیلی حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں جوہری تنصیبات، فوجی اڈے اور سائنسدانوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔ایران ان حملوں کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف ’براہِ راست جنگ‘ قرار دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ردِعمل
ایرانی وزارت دفاع اور پاسداران انقلاب کی قیادت نے ان حملوں کے بعد شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ "شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا"۔ ساتھ ہی تہران میں دفاعی تیاریوں کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔