امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران کو خالی کرنے کا اچانک مشورہ دنیا بھر میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
ان بیانات نے نہ صرف عالمی سفارتی حلقوں کو پریشان کیا ہے بلکہ تہران کے 95 لاکھ سے زائد شہریوں کو بھی خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جن میں سے ہزاروں افراد شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ کی پوسٹ: "ہر کسی کو فوراً تہران خالی کر دینا چاہیے"
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایک سخت لب و لہجے میں سوشل میڈیا پر کہا:“ایران نیوکلئیر ہتھیار نہیں رکھ سکتا... انہیں معاہدے پر دستخط کرنے چاہیے تھے... ہر کسی کو فوری طور پر تہران کو خالی کرنا چاہیے!”یہ بیان اس وقت آیا جب پہلے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی جھڑپیں جاری تھیں اور تہران میں خوف و ہراس کا ماحول تھا۔
اسرائیلی وارننگ اور شہری بحران
اس سے قبل پیر کے دن اسرائیلی فوج نے بھی ایک وارننگ جاری کی تھی جس میں وسطی تہران کے علاقوں میں رہنے والے تقریباً 3.3 لاکھ شہریوں کو انخلا کا مشورہ دیا گیا تھا۔ متاثرہ علاقوں میں:
ایران کا سرکاری ٹی وی ہیڈکوارٹر
پولیس ہیڈکوارٹر
تین بڑے اسپتال (جن میں ایک پاسدارانِ انقلاب کی ملکیت ہے)
شامل تھے۔
تہران میں زمینی صورتِ حال
مختلف عالمی نیوز ایجنسیوں اور سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق:شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔دکانیں بند ہو رہی ہیں اور سڑکوں پر عام آمد و رفت کم ہو گئی ہے۔شہری گھروں میں محصور ہیں یا شہر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایمرجنسی خدمات دباؤ میں آ چکی ہیں۔
دھمکی، مشورہ یا پیشگی وارننگ؟
صدر ٹرمپ کے بیان پر عالمی مبصرین اور صحافیوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ:
دھمکی تھی،
احتیاطی مشورہ تھا،
یا پھر کسی ممکنہ فوجی کارروائی کا پیشگی اشارہ۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایسے غیر معمولی بیانات عالمی سطح پر امن کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایران کا ردعمل اور تناؤ میں اضافہ
ایرانی حکومت نے اب تک ٹرمپ کے تازہ بیان پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ایرانی میڈیا نے اسے "نفسیاتی جنگ کا ہتھیار" قرار دیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے ٹی وی چینلز اور اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ:“ایران کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔”ایرانی ذرائع نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو جوہری پروگرام کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے۔
سفارتکاری کی آخری مہلت؟
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خلیجی ریاستیں — بالخصوص عمان، قطر، اور سعودی عرب — ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہیں۔عمان جنگ بندی کی تحریری تجویز تیار کر رہا ہے۔ایران نے IAEA کی نگرانی میں افزودگی معطل کرنے پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ وہ "امید کرتے ہیں کہ ایران معاہدہ کر لے گا، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے"۔
نتیجہ: تہران خوف میں، دنیا تشویش میں
صدر ٹرمپ کی "تہران خالی کریں" والی پوسٹ نے ایران کے شہریوں کو مزید غیر یقینی صورت حال میں دھکیل دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:“یہ بیان اگر محض دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تو بھی اس نے لاکھوں عام شہریوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے، جو کسی بھی انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔”ایسے میں جب دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، عالمی رہنما اور اقوام متحدہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بیانات میں احتیاط اور سفارتکاری کو موقع دینا ضروری ہے۔