ایران کا ثالثوں کو دوٹوک جواب: اسرائیل کی جارحیت کا مکمل جواب دیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں

ایران کا ثالثوں کو دوٹوک جواب: اسرائیل کی جارحیت کا مکمل جواب دیے بغیر مذاکرات ممکن نہیں

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب نہ دے دیا جائے، اس وقت تک جنگ بندی یا مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔

 ایران نے یہ پیغام قطر اور عمان کے ثالثوں کے ذریعے عالمی برادری تک پہنچایا ہے۔

 ایرانی مؤقف:
ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے ثالثوں کو بتایا کہ:"ہم حملے کے دوران مذاکرات نہیں کریں گے۔ اسرائیل کی پیشگی کارروائیوں کا مکمل جواب دینے کے بعد ہی سنجیدہ مذاکرات پر غور ہو سکتا ہے۔"
برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا:"ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے حملوں کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے وسیع تر جنگ کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔"
  ثالثی کی کوششیں ناکام:
قطر اور عمان کی جانب سے ایران کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔ایران نے اس موقع پر کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے جاری رہیں تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
  ٹرمپ کا دعویٰ:
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد معاہدہ کرانے کی کوشش کریں گے۔تجزیہ کار اس بیان کو سیاسی مفاد اور ممکنہ صدارتی مہم سے جوڑ رہے ہیں۔
  علاقائی تناؤ میں شدت:
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے:خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ کا خطرہ لاحق ہے۔تیل کی قیمتوں، عالمی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر اثرات متوقع ہیں۔