نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں تیز

نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں تیز

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

 ٹرمپ کے نامزد ایلچی برائے مشرق وسطیٰ، اسٹیو وٹکوف نے نومبر میں قطری اور اسرائیلی وزرائے اعظم سے ملاقاتیں کیں تاکہ غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔امریکی عہدیدار نے اس حوالے سے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف کا مقصد ٹرمپ کی حلف برداری سے پہلے غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا ہے۔ اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنا ہے اور ٹرمپ کی صدر بننے کے بعد کا اثر و رسوخ استعمال کرنا ہے۔ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹر کے مطابق، امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بائیڈن کی ٹیم نے ٹرمپ کی ٹیم کو غزہ کے مذاکرات کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے، لیکن دونوں فریق اس وقت براہِ راست ایک ساتھ کام نہیں کر رہے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ کی ٹیم غزہ میں جنگ بندی کے لیے مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے کوششیں کر رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے ذرائع نے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف کی یہ کوشش ہے کہ وہ ٹرمپ کی حلف برداری سے پہلے 20 جنوری تک جنگ بندی کا معاہدہ کرلیں، تاکہ وہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے پہلے اس اہم مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔یہ کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ٹرمپ اپنے دورِ صدارت کے اختتام تک مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں جنگ بندی کے لیے فعال سفارتی اقدامات شامل ہیں۔