یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) نے خواتین کے ایتھلیٹکس مقابلوں کی براہِ راست نشریات کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کا مقصد کھلاڑیوں کی غیر ضروری جنسی نوعیت کی عکاسی سے گریز کرتے ہوئے زیادہ باوقار اور پیشہ ورانہ کوریج کو فروغ دینا ہے۔
ای بی یو کے مطابق یہ رہنما اصول خواتین ایتھلیٹس سے مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں تاکہ مقابلوں کے دوران کیمرہ ورک اور نشریاتی انداز کو کھلاڑیوں کے تحفظ، احترام اور وقار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔برطانوی اولمپک کانسی کا تمغہ جیتنے والی پول والٹر ہولی بریڈشا نے بتایا کہ ماضی میں بعض کیمرا اینگلز اور سلو موشن ری پلے کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر ہراسانی اور نامناسب ویڈیوز کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر خواتین ایتھلیٹس اپنی کارکردگی کے بجائے اس بات پر زیادہ پریشان رہتی ہیں کہ کیمرے انہیں کس زاویے سے دکھا رہے ہیں، جو ان کی توجہ اور اعتماد پر منفی اثر ڈالتا ہے۔سربیا کی اولمپک لانگ جمپر ایوانا اسپانووچ نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض کیمرا اینگلز نہ صرف مقابلوں کے دوران بے چینی پیدا کرتے ہیں بلکہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت ہائی جمپ، پول والٹ اور دیگر مقابلوں میں نیچے سے کیمرہ لگانے، غیر ضروری کلوز اپ شاٹس اور ایسے سلو موشن ری پلے سے گریز کی سفارش کی گئی ہے جنہیں کھلاڑیوں کی غیر ضروری نمائش تصور کیا جا سکتا ہو۔رپورٹ کے مطابق اگست میں برمنگھم میں ہونے والی یورپی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے دوران ان نئی براڈکاسٹنگ ہدایات پر عمل درآمد کیے جانے کا امکان ہے۔کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خواتین ایتھلیٹس کے وقار، رازداری اور ذہنی تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے کھیلوں کی نشریات میں پیشہ ورانہ معیار کو مزید بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔