امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ

امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ

 ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانشہر میں ہلاک ہونے والے افراد کے بدلے کے لیے شام کے علاقے التنف میں موجود امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو اچانک حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا، جس میں ایک ریڈار سسٹم اور متعدد امریکی اسپیشل آپریشنز ہیلی کاپٹرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ حملے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، تاہم اس حوالے سے بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری راستے پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جب تک امریکا کی جانب سے حملے جاری رہیں گے، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی برآمدات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست فوجی کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔