تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عمان اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
تاہم ان دعوؤں کی تاحال امریکا یا عمان کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مربوط میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے عمان میں نصب امریکی طویل فاصلے تک فضائی نگرانی کے ریڈار اور بحری نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ بحرین کے علاقے جفیر میں قائم امریکی فوجی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے امریکا کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے جواب میں کی گئیں۔دوسری جانب امریکی حکام نے ان حملوں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی باضابطہ ردعمل جاری کیا ہے، جبکہ عمانی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ایران کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مختلف نوعیت کی عسکری کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج نے بھی آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے ساحلی ریڈار سسٹمز، میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور پاسدارانِ انقلاب کے مختلف فوجی اڈوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے عمان اور بحرین میں حملوں کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس کے اثرات علاقائی سلامتی، عالمی بحری تجارت اور تیل و گیس کی عالمی سپلائی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔تاحال دونوں جانب سے سامنے آنے والے متعدد عسکری دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث خطے کی صورتحال انتہائی غیر یقینی اور تشویشناک سمجھی جا رہی ہے۔