امریکی حملوں میں 38 افراد جاں بحق، 400 سے زائد زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت

امریکی حملوں میں 38 افراد جاں بحق، 400 سے زائد زخمی ہوئے، ایرانی وزارت صحت

تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد اب تک ملک بھر میں کم از کم 38 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 38 ایرانی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ترجمان کے مطابق زخمیوں میں 22 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کے 9 بچے زخمی ہوئے جبکہ ایک کم عمر بچہ ہلاک ہوا۔ایرانی حکام نے امریکی فضائی کارروائیوں کو شہری آبادی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے ایران کی جانب سے جاری کیے گئے ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی تاحال نہیں ہو سکی۔

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق جاری کشیدگی نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔