گارد انچارج اے ایس آئی نوازش ، کانسٹیبل بشیر کو 6/6 سال قید ڈیڑھ/ڈیڑھ لاکھ جرمانہ
فرار کے مرکزی منصوبہ ساز پریڑن وین کے ڈرائیور کانسٹیبل عنصر کو 12 سال قید کا حکم
گوجرانوالہ (خصوصی رپورٹ )قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے مقدمہ میں گرفتار 2 خطرناک ملزموں کے پولیس حراست سے فرار پر گوجرانوالہ کی اینٹی کرپشن کی سپیشل کورٹ نے 10 سال پرانے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا۔ فاضل جج سعید رفیق نے گارد انچارج اے ایس آئی نوازش اور کانسٹیبل بشیر کو 6/6 سال قید ڈیڑھ/ڈیڑھ لاکھ جرمانہ کا حکم دیدیا۔ ملزموں کے فرار کے مرکزی منصوبہ ساز پریڑن وین کے ڈرائیور کانسٹیبل عنصر کو 12 سال قید کا حکم سنایا گیا۔ ایک ملزم پولیس کانسٹیبل شہزادعدالتی کارروائی کے دوران رضائے الٰہی سے انتقال کر گیا تھا۔مدعی مقدمہ سب انسپکٹر لیاقت کی جانب سے عمران حیدر ایڈووکیٹ نے جبکہ پولیس اہلکار ملزموں کی جانب سے انکے وکلا نے حتمی دلائل دئیے۔ گارد انچارج اور کانسٹیبلز کیخلاف تھانہ سول لائنز میں 30 مئی 2016 کو مقدمہ درج ہوا تھا ۔ ایف آئی آر کے مطابق گارد انچارج نوازش اور کانسٹیبل بشیر اور شہزاد پریڑن وین کے ڈرائیور عنصر کے ہمراہ سنٹرل جیل میں بند تھانہ صدر پنڈی بھٹیاں کے قتل اور انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے مقدمہ میں گرفتار ملزم منور شاہ اور عادل جان کو تاریخ پیشی پر انسداد دہشتگردی گوجرانوالہ کی خصوصی عدالت میں لائے۔ عدالت نے حاضری کے بعد ملزموں کو واپس جیل بند کرنے اور 8 اکتوبر 2016 کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ دو بجے کے قریب ملزم منور شاہ کے بھائی صابر شاہ اور عزیز شاہ وغیرہ نے کھانے کی دعوت کے بہانے کھانے سے پہلے پولیس اہلکاروں کو جوس پلایا جو نشہ آور ہونے پر وہ بے ہوش ہو گئے۔ ملزم منور شاہ اور عادل جان بھائیوں کی مدد سے ہتھکڑیاں کھول کر فرار ہو گئے تھے۔