تندور مالکان کی ہڑتال کی دھمکی روٹی بحران سر اٹھانے لگا
15 کلو آٹے کا تھیلا 2,000 روپے سے تجاوز کر گیا حکومت نئی قیمتیں تسلیم کرے:نانبائی ایسوسی ایشن،زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی : انتظامیہ ،کراچی میں آٹا فروشوں کی ہڑتال،پشاور،کوئٹہ میں بھی روٹی مہنگے داموں فروخت
لاہور،کراچی،پشاور (کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور سمیت مختلف شہروں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نان اورروٹی کی مہنگے داموں فروخت جاری،نان بائیوں اور محکمہ خوراک میں قیمتوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا، کراچی میں آٹا فروشوں کی گرفتاریوں اور جرمانوں کے خلاف ہول سیل تاجروں کی ہڑتال ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں نان بائیوں کی طرف سے روٹی کی قیمت میں 9 روپے اور نان کی قیمت میں 10 روپے اضافے کا اعلان کرنے کے بعد روٹی 25 روپے جبکہ نان 35 روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے۔نان بائیوں کا موقف ہے کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2400 روپے تک پہنچ چکا،اس لیے پرانی قیمتوں پر روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں ،اگر حکومت نے نئی قیمتیں تسلیم نہ کیں تو تندور بند کر دیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک کے ساتھ روٹی کی قیمت کے تنازع پر نان بائی ایسوسی ایشن نے ہفتے کو اجلاس طلب کر لیا۔ نان بائی ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر آفتاب گل نے کہا ہے کہ گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من تک پہنچ چکی ، 15 کلو آٹے کا تھیلا 2,000 روپے سے تجاوز کر گیا ، ایسے حالات میں سرکاری نرخ پر روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ لاہور کا کہنا ہے کہ 120 گرام روٹی کی قیمت 17 روپے اور نان کی قیمت 30 روپے مقرر ہے ،زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔دریں اثناء کراچی میں چکی آٹا 160 سے 170 روپے فی کلو فروخت ہو رہا جبکہ سرکاری نرخ 125 روپے فی کلو مقرر ہیں، شہر میں 20 روپے والی روٹی 25 روپے اور 25 روپے والا نان 30 روپیمیں فروخت کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں کراچی میں آٹا فروشوں کی گرفتاریوں اور جرمانوں کے خلاف ہول سیل گراسرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث متعدد ہول سیل مارکیٹیں بند رہیں ۔ ہول سیل گراسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرف ابراہیم نے کہا کہ دکاندار 125 روپے فی کلو خرید کر 122 روپے میں آٹا فروخت نہیں کر سکتے ، مہنگا آٹا فروخت کرنے والی فلور ملز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ،مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ پشاور میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 300 روپے اضافہ ہوا اور قیمت 3000 روپے تک پہنچ گئی،وہاں سرکاری نرخ 20 روپے مقرر ہیں لیکن بیشتر علاقوں میں روٹی کم از کم 30 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ نانبائی ایسوسی ایشن پشاور نے صوبائی حکومت سے روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافے کے بعد اسے 25 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے ، تندوروں پر سنگل روٹی 40 اور ڈبل روٹی 80 روپے میں دستیاب ہے۔