کرناٹکا ہائیکورٹ نے انڈین پریمیئر لیگ (IPL) ٹائٹل جیتنے کے بعد بنگلور اسٹیڈیم کے باہر ہونے والی بھگدڑ کے واقعے سے متعلق تحقیقی رپورٹ عوامی کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا جب ریاستی حکومت نے اس رپورٹ کو مہر بند لفافے میں عدالت میں جمع کرانے کی درخواست کی۔ تاہم، عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس رپورٹ میں نہ تو قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، نہ کسی فرد کی نجی زندگی سے متعلق حساس معلومات شامل ہیں، اور نہ ہی عوامی مفاد کے خلاف کوئی پہلو پایا جاتا ہے، اس لیے اسے پبلک ڈومین میں لانا ضروری ہے۔یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ بنگلور کے اسٹیڈیم کے باہر اس وقت پیش آیا تھا جب آئی پی ایل ٹائٹل جیتنے کی خوشی میں ہزاروں افراد جشن منانے کے لیے جمع ہو گئے تھے۔ بھگدڑ کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 56 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے واقعات میں شفافیت ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اس رپورٹ کو صرف ریاستی حکام تک محدود رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا۔عدالت کے اس فیصلے کو انصاف اور شفافیت کے حق میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔