’اینابیل‘ گڑیا پر تحقیق کے دوران پیرانارمل ریسرچر ڈین رویرا کی پراسرار موت

’اینابیل‘ گڑیا پر تحقیق کے دوران پیرانارمل ریسرچر ڈین رویرا کی پراسرار موت

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے شہر گیٹس برگ میں معروف امریکی پیرانارمل تفتیش کار ڈین رویرا 54 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ان کا شمار اُن محققین میں ہوتا تھا جو خوفناک اور پراسرار مظاہر پر تحقیق کے لیے عالمی شہرت رکھتے تھے، خصوصاً مشہور "اینابیل" گڑیا کے حوالے سے۔

ہوٹل کے کمرے میں بے ہوش پائے گئے
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈین رویرا 13 جولائی 2025 کو ایک ہوٹل کے کمرے میں بے ہوش پائے گئے۔ ساتھیوں نے فوری طور پر انہیں CPR دینے کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

موت کی وجوہات تاحال نامعلوم
پولیس کے مطابق کمرے میں کسی مشتبہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے، تاہم اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے جس کی رپورٹ 60 سے 90 دن میں متوقع ہے۔

اینابیل اور پراسرار اموات
ڈین رویرا نیو انگلینڈ سوسائٹی فار سائیکک ریسرچ (NESPR) کے مرکزی محقق تھے اور حالیہ دورہ "Devils on the Run Tour" کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ اس ٹور میں مشہور شیطانی گڑیا اینابیل کو بھی پیش کیا جاتا تھا۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ رویرا کی اچانک اور پراسرار موت نے پیرانارمل کمیونٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ بہت سے افراد اس شبہے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اینابیل جیسی مافوق الفطرت اشیاء پر تحقیق کے باعث ان کی زندگی خطرے میں پڑی۔

سوشل میڈیا پر مقبول
روویرا حالیہ مہینوں میں ٹک ٹاک پر خاصے مقبول ہو گئے تھے، جہاں ان کی ویڈیوز لاکھوں افراد دیکھتے تھے۔ گیٹس برگ میں ان کا حالیہ ایونٹ مکمل طور پر سولڈ آؤٹ تھا جس میں 1,200 سے زائد ٹکٹ فروخت ہوئے تھے۔

ساتھیوں کا خراجِ عقیدت
NESPR نے ان کی موت کو ایک "گہرا صدمہ" قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق رویرا ایک وفادار، پرجوش اور بااعتماد محقق اور دوست تھے، جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک ٹیم کا حصہ رہے۔

پسِ منظر
"اینابیل" گڑیا کو شیطانی اثرات کی حامل تصور کیا جاتا ہے اور اس پر متعدد فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ ڈین رویرا اس گڑیا اور دیگر مافوق الفطرت مظاہر پر تحقیق میں سرگرم تھے۔روویرا کی موت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا خوفناک اشیاء پر تحقیق کرنے والوں کی زندگیوں کو واقعی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟